چھچھوندرکی سی مثال
اتباعِ ہوٰی سے بچنا جب ہی ہوتا ہے جب ایک سے بندھ جائے ورنہ نرے دعویٰ ہی دعویٰ ہیں مقلدین میں بہت سے لوگوں کی حالت اچھی نکلے گی بخلا ف غیر مقلدین کے کوئی شاذونادرہی متقی نکل آئے تو نکل آئے ورنہ بہت سیحیلے جو اور نفس پرور ہیں ابوحنیفہ سے بندھتا ہے نفس، ورنہ چھچھوندر کی طرح یہ ہانڈی جا سونگھی وہ ہانڈی جا سونگھی یوں کوئی محتاط بھی نکل آئے لیکن حکم اکثر پر ہوتا ہے اچھے اچھوں کے حالات ٹٹول کردیکھ لیے ہیں۔۔۔اتقاء ایک میں بھی نہیں الا مآشاء اللہ! اس کا اقرار خود ان کے گروہ کو بھی ہے آج کل خیریت ہے تو سلف کے اتباع ہی میں ہے اوررائے کو دخل دینے میں مفاسد ہی مفاسد ہیں تجربہ ہے کہ اتباع سے نکل کرآدمی بڑا دور پہنچتا ہے حتی کہ بعض اوقات اسلام سے نکل جاتا ہے۔۔۔ (حسن العزیز)(تحفہ العلماجلد نمبر2)
