غالی مبتد عین اورغالی غیر مقلدین کا غلو
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ غالی بدعتی ہمیشہ اہل حق کے درپے رہتے ہیں۔ ان میں اکثر بددین ہوتے ہیں جن میں دیانت کانام نہیں ہوتا جوجی میں آتا ہے بدون تحقیق کے جس پر چاہتے ہیں فتویٰ لگانا شروع کردیتے ہیں اور کسی کے کلام میں تحریف کرنا تو ان کا ایک بائیں ہاتھ کا کام ہے ہمارے بزرگوں کی عبارتوں کو کھینچ تان کر برے محمل پر محمول کرکے ان کی طرف سے ان پر اعتراضات کئے گئے بعید سے بعید احتمالات نکال کر کفر کے فتوے لگائے گئے کیا ٹھکانا ہے اس عناد کا اوران حضرات کی یہ شان تھی کہ بعید سے بعید توجیہ اور تاویل کرکے ایک مسلمان کی کفر سے حفاظت کرتے تھے فلاں خان صاحب نے ہمیشہ مجھ پر فتوے دئیے مگر میں نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی کہ جس سے ان کے متعلق بدگمانی یا بدزبانی بھی مترشح ہو ہاں تحقیق کے درجہ میں ضروری حقیقت کوضرور واضح کردیا یہی حال غالی غیر مقلدین کا ہے۔ خصوص بدگمانی اوربد زبانی کا مرض ان میں خصوصیت سے ہے شیعوں کی طرح تبرا ان کا بھی شعار ہے بزرگوں کی شان میں گستاخی کرنا ان کے یہاں بھی ذریعہ نجات ہے ایسی غیر مقلدی نیچریت کی پہلی سیڑھی ہے اللہ بچائے۔(ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر ۶)
