آنسو بہانے سے متعلق سنتیں
انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام رونے کو نبوت کے وقار کے منافی نہیں سمجھتے تھے۔ حضرت داؤد علیہ السلام خدا کے حضور میں بے تحاشا روتے تھے۔ فرمایا کرتے تھے:۔
’’میرا سر آنسوؤں سے لبریز اور میری آنکھیں آنسوؤں کا فوارہ ہے۔‘‘
ہمارے نبی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کو اللہ کی محبت اور آخرت کے خوف سے رونے کی تعلیم دی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کوئی ایسا وقت نہیں گزرا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم روئے نہ ہوں، رونے کے فضائل پر کئی احادیث وارد ہوئی ہیں۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مؤمن بندے کی آنکھوں سے خوف خدا سے آنسو بہہ پڑیں چاہے وہ مکھی کے سر کے برابر ہی ہوں پھر وہ رُخسار تک جاپہنچے تو اللہ تعالیٰ اس پر دوزخ کو حرام کردیتا ہے۔ (مرقاۃ، جلد:۱۰، ص:۹۲)
ایک دوسری حدیث میں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دُعا کرتے تھے کہ اے اللہ! مجھ کو ایسی دو آنکھیں عطا فرما جو آپ کے خوف سے خوب رونے والی ہوں اور خشیت الٰہی کے آنسوؤں سے قلب کو شفا دینے والی ہوں۔ اس سے پہلے کہ آنسو (جہنم کے عذاب سے) خون ہو جائیں اور داڑھیں انگارے ہو جائیں۔ (کشکول معرفت)
آنسو بہانے والوں کے چند سبق آموز واقعات ، پہلا واقعہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان صحابی رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے ، وہ قرآن کی یہ آیت تلاوت کررہے تھے: ’’فاذا انشقت السماء فکانت وردۃ کالدھان‘‘۔
’’پھر جب آسمان پھٹ جائے گا تو وہ سرخ چمڑے جیسا گلابی ہو جائے گا۔‘‘
یہ آیت پڑھ کر وہ ٹھہر گئے ان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور آنسو بہاتے بہاتے دم گھٹنے لگا، روتے جاتے اور کہتے جاتے تھے ہائے اس دن میرا کیا بنے گا؟ جس میں آسمان پھٹ جائے گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی گریہ و زاری سن کر ارشاد فرمایا اے جوان! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ تمہارے رونے پر فرشتے بھی رو پڑے۔ (بحوالہ قیام اللیل، ص:۹۹)
ف:…آج ایسی تلاوت کو ہمارے کان ترس گئے ہیں جو جذبات میں تلاطم برپا کردے جسے سن کر دل کانپ جائیں اور آنکھیں بہہ پڑیں۔ عام طور پر جو تلاوت کی جاتی ہے وہ دل کے بجائے صرف حلق سے نکلتی ہے اور دل میں اُترنے کے بجائے صرف کانوں سے ٹکرا کر واپس آجاتی ہے۔
دوسرا واقعہ
ابن ابی ملیکہ رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ ابوجہل کے بیٹے حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ (تلاوت کے لیے) قرآن مجید اُٹھاتے تو پہلے اسے چہرے پر رکھتے اور روتے ہوئے کہتے : ’’کلام ربی کتاب ربی‘‘ (مستدرک حاکم، ج:۳)
ف:…ابوجہل اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا بدترین دشمن تھا، اس کے بیٹے عکرمہ رضی اللہ عنہ ایک عرصہ تک نعمت اسلام سے محروم رہے لیکن یہ نعمت ان کے تعاقب میں رہی اور پھر وہ محرومی کی کوشش کے باوجود بھی محروم نہ رہ سکے اور جب اللہ تعالیٰ نے ان کے سینے کو نورِ ایمان سے منور فرما دیا تو جن دو چیزوں سے انہیں سب سے زیادہ نفرت تھی انہی سے سب سے زیادہ محبت بھی پیدا ہوگئی۔ یعنی قرآن اور پیغمبر قرآن حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، وہ جب قرآن کو ہاتھ میں لیتے تو کبھی اپنے ہاتھوں کو دیکھتے اور کبھی اللہ تعالیٰ کے عظیم کلام اور بے مثال کتاب کو۔ گویا :۔
کہاں میں اور کہاں نکہتِ گل
والا منظر ہوتا تھا۔ پھر اس کی عظمت کا احساس کرکے ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے۔
اللہ تعالیٰ کے خوف سے رونا سنت ہے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں جب یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
’’افمن ھٰذا الحدیث تعجبون وتضحکون ولا تبکون‘‘
’’سو کیا تم لوگ اس کلام سے تعجب کرتے ہو اور ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو۔‘‘
تو ان آیات کو سن کر اصحاب صفہ رو پڑے اور اس قدر روئے کہ آنسو ان کے رُخساروں پر بہتے رہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے رونے کی آواز سنی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی رو پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رونے پر ہم لوگ بھی روئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کے خوف سے رویا وہ جہنم میں نہیں جائے گا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مسلسل اصرار کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا، اگر تم لوگ گناہوں سے باز آگئے تو اللہ تعالیٰ دُنیا میں ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جن سے گناہ ہوں گے اور وہ توبہ کریں گے اور توبہ کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ان کی بخشش فرما دے گا۔ (بحوالہ اخرجہ البیہقی فی شعب الایمان)
ف:…انسان سے گناہ ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت اور مزاج ہی ایسا بنایا ہے کہ ان سے غلطی ہوسکتی ہے اور اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگوں سے بڑی محبت ہے جو گناہ کے بعد سچے دل سے توبہ کرلیتے ہیں اور گناہوں پر ندامت کی وجہ سے ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑتے ہیں ، توبہ اور گریہ جہنم سے آزادی کا پروانہ اور جنت میں داخلے کی ضمانت ہے۔
فائدہ:…بیشک اللہ کے ڈر سے اس کے سامنے آنسو بہانا بہت بڑی اور پُرتاثیر عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ کو اپنے ایسے آنسو بہانے والے بندے بہت پسند ہیں۔ یقینا اللہ کے لیے آنسو بہانا دُنیا و آخرت دونوں میں سود مند ہے۔
حضرت عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ قیامت کا دن ہوگا۔ حساب کتاب ابھی قائم نہیں ہوا ہوگا کہ ایک منادی اعلان کرے گا کہ جن لوگوں کا اللہ تعالیٰ پر حق ہے وہ اپنا حق لے لیں اور مخلوق حیران ہوگی کہ اللہ تعالیٰ پر کس کا حق ہے تو وہ پوچھیں گے کہ اللہ تعالیٰ پر حق کس کا ہے؟ تو فرشتہ کہے گا کہ جس بندے کو دُنیا میں کوئی غم پہنچا جس کی وجہ سے اس کی آنکھیں پُرنم ہوگئیں ، اب اس بندے کا اللہ پر حق ہے کہ یہ ان پُرنم آنکھوں کا بدلہ اپنے پروردگار سے لے لے۔ چنانچہ لوگ کھڑے ہو جائیں گے کہ مجھے بھی غم ملا تھا، میں بھی رویا تھا، میں بھی رویا تھا۔ یوں ان کو اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق اجر دیں گے جو ان کے گناہوں کی بخشش کے لیے کافی ہو جائے گا۔
قیامت کے دن تین آنکھوں کے سوا ہر آنکھ روتی ہوگی
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قیامت کے دن تین آنکھوں کے سوا ہر آنکھ روتی ہوگی اور وہ یہ ہیں ایک وہ آنکھ جو اللہ تعالیٰ کے خوف سے روتی ہے۔ دوسری وہ جو اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ مقامات سے بچتی رہی ہو اور تیسری وہ آنکھ جس نے فی سبیل اللہ پہرہ دیا اور جاگتی رہی۔
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ قیامت کے دن چار آنکھوں کے علاوہ سب آنکھیں روئیں گی۔ (۱) ایک وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں کام آگئی۔ (۲) دوسری وہ جو اللہ کے خوف سے بہنے لگی۔ (۳) تیسری وہ جو اللہ کے خوف سے جاگتی رہی۔ (۴) چوتھی وہ آنکھ جس نے مسلمانوں کے لشکر کی حفاظت میں پہرہ دیا۔
رونا تین طرح ہوتا ہے
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا: ’’رونا تین طرح ہوتا ہے:۔
۔(۱) اللہ تعالیٰ کے عذاب کے خوف سے
۔(۲) اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے خطرے سے۔
۔(۳) اللہ تعالیٰ کی جدائی کے ڈر سے (پھر ہر رونے کا نتیجہ ہے )۔
پہلا رونا گناہوں کے کفارے کا ذریعہ ہے ، دوسرا رونا عیبوں سے پاک ہونے کا ذریعہ ہے اور تیسرا رونا محبوب کی رضا کے ساتھ دوستی کا نصیب ہونا ہے، گناہوں کے کفارے کا نتیجہ یہ ہے کہ آخرت کے عذاب سے نجات ملتی ہے ، عیبوں کے دُھل جانے کا نتیجہ جنت میں ہمیشہ کی نعمتوں کا ملنا اور اقامت ہے اور اونچے درجات کا ملنا ہے، اللہ کی رضا اور دوستی کا نتیجہ یہ ہے کہ اچھی بشارتیں ملتی ہیں جو اللہ کی رضا کی وجہ سے خواب میں نظر آتی ہیں اور فرشتوں کی زیارت ہو جاتی ہے اور مزید کئی قسم کی فضیلتیں ملتی ہیں۔‘‘۔
سنت والی زندگی اپنانے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر مطلوبہ کیٹگری میں دیکھئے ۔ اور مختلف اسلامی مواد سے باخبر رہنے کے لئے ویب سائٹ کا آفیشل واٹس ایپ چینل بھی فالو کریں ۔ جس کا لنک یہ ہے :۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M
