دس ہزار دینار کا وظیفہ
ایک مرتبہ کچھ لوگ سمندر میں کشتی پر سوار ہوکر سفر کررہے تھے تو سمندر میں سے ایک آواز دینے والے کی آواز آئی مگر اس کی صورت نہیں دکھائی پڑی ۔۔۔اس نے کہا کہ اگر کوئی شخص مجھے دس ہزار دینار دے دے تو میں اس کو ایک ایسا وظیفہ بتادوں گا کہ اگر وہ ہلاکت کے قریب پہنچ گیا ہو اور اس وظیفہ کو پڑھ لے تو تمام بلائیں اور ہلاکتیں ٹل جائیں گی تو کشتی والوں میں سے ایک نے بلند آواز سے کہا کہ آئو میں تجھ کو دس ہزار دینار دوں تو مجھے وہ وظیفہ بتادے تو آواز آئی کہ تو دیناروں کو سمندر میں ڈال دے مجھے مل جائیں گے ۔
چنانچہ کشتی والے نے دس ہزار دیناروں کو سمندر میں ڈال دیا تو اس غیبی آواز والے نے کہا کہ وہ وظیفہ ’’وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا‘‘ ہے ۔۔۔تجھ پر جب کوئی مصیبت آن پڑے تو اس کو پڑھ لیا کرو۔۔۔ یہ سن کر کشتی کے سب سواروں نے اس کا مذاق اڑایا اور کہا کہ تونے دس ہزار دیناروں کی کثیر دولت ضائع کردی تو اس نے جواب دیا کہ میرے لئے یہ قرآن شریف کی آیت ضرور نفع بخش ہوگی۔
اس کے بعد چند دن کشتی چلتی رہی ۔۔۔ اچانک طوفان کی موجوں سے کشتی ٹوٹ کر بکھر گئی اور سوائے اس آدمی کے کشتی کا کوئی آدمی بھی زندہ نہیں بچا یہ کشتی کے ایک تختے پر بیٹھا ہوا سمندر میں بہتا چلا جارہا تھا ۔۔۔ یہاں تک کہ ایک جزیرہ میں اتر پڑا اور چند قدم چل کر یہ دیکھا کہ شاندار محل بنا ہوا ہے اور ہر قسم کے موتی اور جواہرات وہاں پڑے ہوئے ہیں اور اس محل میں ایک بہت ہی حسین عورت اکیلی بیٹھی ہوئی ہیںاور ہر قسم کے میوے اور کھانے کے سامان وہاں رکھے ہوئے ہیں۔۔۔ اس عورت نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو اور کیسے یہاں پہنچ گئے؟تو اس نے عورت سے پوچھا کہ تم کون ہو اور یہاں کیا کررہی ہو؟تو اس عورت نے اپنا قصہ سنایا کہ میں بصرہ کے ایک بڑے تاجر کی بیٹی ہوں ۔۔۔ میں اپنے باپ کے ساتھ سمندری سفر میں جارہی تھی کہ ہماری کشتی ٹوٹ گئی اور مجھے کوئی اچانک کشتی میں سے اچک کر لے بھاگا اور میں اس جزیرہ میں اس محل کے اندر اس وقت سے پڑی ہوں۔۔۔ وہ ایک شیطان ہے جو مجھے اس محل میں لے آیا ہے وہ ہر ساتویں دن یہاں آتا ہے اور آج اس کے یہاں آنے کا دن ہے۔۔۔ لہٰذا تم اپنی جان بچاکر یہاں سے بھاگ جائو ورنہ وہ آکر تم پر حملہ کردے گا۔۔۔
ابھی اس عورت کی گفتگو ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ ایک دم اندھیرا چھاگیا تو عورت نے کہا کہ جلدی بھاگ جاؤ وہ آرہا ہے ورنہ وہ تم کو ضرور ہلاک کردے گا ۔۔۔ چنانچہ وہ آگیا اور یہ شخص کھڑا رہا مگر جوں ہی شیطان اس کو دبوچنے کیلئے آگے بڑھا تو اس نے ’’وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا‘‘ کا وظیفہ پڑھنا شروع کردیا تو شیطان جل کر راکھ بن کر ڈھیر ہوگیا۔۔۔ یہ دیکھ کر عورت نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو فرشتہ رحمت بناکر میرے پاس بھیج دیا ہے۔۔۔ ان موتی جواہرات کو اُٹھالو اور اس محل سے نکل کر میرے ساتھ سمندر کے کنارے چلو اور کوئی کشتی تلاش کرکے یہاں سے نکل چلو ۔۔۔ چنانچہ بہت سے موتی و جواہرات اور پھل وغیرہ کھانے کا سامان لے کر دونوں محل سے نکلے اور سمندر کے کنارے پہنچے تو ایک کشتی ’’بصرہ‘‘ جارہی تھی ۔۔۔ دونوں اس پر سوار ہوکر بصرہ پہنچے ۔۔۔لڑکی کے والدین نے پوری سرگزشت سن کر دونوں کا نکاح کردیا اور دونوں میاں بیوی بن کر رہنے لگے اور تمام موتی و جواہرات جو دونوں جزیرہ سے لائے تھے۔۔۔ وہ دونوں کی مشترکہ دولت بن گئی اور اس عورت سے خدا وند تعالیٰ نے اس مرد کو اولاد بھی دی اور وہ دونوں بہت ہی محبت و الفت کے ساتھ خوشحال زندگی بسر کرنے لگے۔ (تفسیر صافی جلد ۴ ص ۱۸۳)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

