بیوی ملازمہ نہیں
مدینہ منورہ میں ایک مرتبہ چودہ شعبان کی شب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم بستر مبارک سے آہستہ سے اٹھتے ہیں۔۔۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں (جوکہ وہیں آرام فرما تھیں) کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آہستہ سے چادر اٹھاتے ہیں۔۔۔ کمرہ کا دروازہ آہستہ سے کھولتے ہیں اور چپکے سے جنۃ البقیع کے قبرستان میں فوت شدہ مومنین کی مغفرت کی دعا کرنے کیلئے تشریف لے جاتے ہیں ۔۔۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر جنبش اور نقل و حرکت کیلئے آہستہ کا لفظ استعمال کرتی جاتی ہیں۔۔۔ اس وقت ہر عمل میں آہستگی کا اتنا اہتمام کیوں؟
جواب دنیا سنے گی؟ شوہروں کو تمام تر خدائے مجازی اور بیویوں کو تمام تر باندی (نوکرانی) سمجھنے والی دنیا سنے گی؟ آہستگی کا اہتمام اس لئے اور محض اس لئے کہ پاس لیٹی ہوئی۔۔۔ عائشہ (رضی اللہ عنہا) کی راحت میں بلا ضرورت خلل نہ پڑے۔۔۔ آج بڑے بڑے نرم مزاج شوہروں میں بھی کوئی اپنی رفیقہ حیات کی راحت و آسائش کا اس درجہ اہتمام کرنیوالا کوئی ہے؟
نیکی اور بزرگی کا معیار یہ ہے یہ نہیں کہ دفتروں اور دوستوں کے مجمع میں قومی جلسوں میں کون کیسا نظر آتا ہے ۔۔۔بلکہ یہ کہ بیوی کے ساتھ برتائو کس کا نرم ہے گھر کے اندر صبرو تحمل کا ثبوت کون دیتا ہے۔۔۔ اور جلوت میں نہیں خلوت میں کون کیسا ہے؟
سسرال جیل خانہ کا نام نہیں ۔۔۔اور نہ لڑکی شادی کے بعد بیوی سے باندی بن جاتی ہے اسلام میں بیوی کنیز نہیں ہوجاتی بیوی ہی رہتی ہے۔۔۔ قرآنی حکم ہے کہ ’’بیوی کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آئو‘‘۔۔۔ کسی خاص عمر یا کسی خاص حالت کی کوئی قید و شرط نہیں۔۔۔ جوانی میں بھی اور بڑھاپے میں بھی حُسنِ سلوک کرنے کا حکم ہے۔
بیوی حسین و جمیل ہو تو۔۔۔ اور حسن و جمال ظاہری سے محروم ہو تو ۔۔۔ڈھیروں مال لے کر آئے جب بھی۔۔۔ اور خالی ہاتھ آئے جب بھی عزت رکھتی ہے۔۔۔ شوہر کی آمدنی پر حق رکھتی ہے حیثیت و مرتبہ رکھتی ہے۔۔۔ جس طرح مرد کے حقوق عورت کے ذمہ ہیں ویسے ہی عورت کے حقوق بھی مرد کے ذمہ ہیں اور کیوں نہ ہوتے جب خلقت دونوں کی ایک رکھی گئی اور خلقت کی یکسانی کا گواہ کوئی دوسرا نہیں خود خالق کائنات ہے۔۔۔ اگر آپ کو سیم و زر کی طلب ہے تو وہ بھی احتیاج مال سے بے نیاز نہیں رکھی گئی۔۔۔ اگر آپ اپنی راحت و آسائش کے بھوکے ہیں تو اس کا جسم بھی خستگی اور تھکن کے اثرات کو قبول کرنے والا بنایا گیا ہے ۔۔۔اگر آپ کو غصہ آتا ہے تو وہ بھی بے حس نہیں پیدا کی گئی۔۔۔ آپ اگر حکومت چاہتے ہو تو وہ بھی غلامی کیلئے پیدا نہیں کی گئی۔
آج عجمیت کے اثر۔۔۔ ہندوبت کے تسلط سے اس بات پر فخر کیا جاتا ہے کہ ہم بیوی سے دبتے نہیں۔۔۔ بلکہ دبا کر رکھتے ہیں۔۔۔ لیکن محسن کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات پر فخر نہ تھا وہاں بیوی کی حیثیت پیش خدمت لونڈی باندی کی نہیں۔۔۔ بلکہ اللہ کی بخشی ہوئی بہترین نعمت کی تھی۔
حدیث شریف میں فرمایا گیا
کہ مومن کیلئے تقویٰ الٰہی کے بعد کوئی نعمت نیک سیرت بیوی سے بڑھ کر نہیں۔ (ابن ماجہ)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

