خدمت استاد کی برکات
حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمہ اللہ سنایا کرتے تھے :۔۔۔ایک طالب علم بڑا ذکی تھا۔۔۔اسے اپنے علم وذہانت پر بڑا ناز تھا اس کا ایک کلاس فیلو (ہم درس ساتھی) تھا جوکہ بڑا کمزور تھا ۔۔۔لیکن اپنے اساتذہ کی خدمت میں پیش پیش رہتا تھا ۔۔۔استاد کے استنجاء کیلئے مٹی کے چھوٹے چھوٹے ڈھیلے اور پانی کا لوٹا لیکر آتا تھا ۔۔۔ایک دفعہ اس ذکی نے (جس کو اپنی ذہانت پر بڑا ناز تھا) اس خدمت گزار غبی وکمزور سے حقارت آمیز لہجے میں کہا۔۔۔چل بے چل۔۔۔ تو تو کمزور سا ہے تو کیا کرے گا؟
اس کی یہ بات استاد نے سن لی۔۔۔ اس وقت کے استاد بھی پہنچے ہوئے استاد ہوا کرتے تھے۔۔۔ یہ سن کے انہیں جوش آیا ۔۔۔۔اس ذکی لڑکے کو بلایا اور کہا تیرا کیا خیال ہے یہ جو میرے لئے لوٹے بھرتا ہے میرے استنجاء کیلئے ڈھیلے بناکے لاتا ہے ۔۔۔یہ سب کچھ یوں ہی چلا جائے گا؟
بس استاد نے اتنی سی بات کہی۔۔۔ حضرت مولانا جالندھری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے
کہ دنیا نے دیکھ لیا کہ ناز وگھمنڈ کرنے والا آگے مدرس نہ بن سکا کسی کو پڑھا نہ سکا۔۔۔ ڈھیلے بناکے لانے والے اور استاد کی خدمت میں پیش پیش رہنے والے کمزور کندذہن کے پاس سینکڑوں شاگرد بیٹھے تھے۔۔۔ یہ استاد کے احترام وخدمت کی برکت ہے۔۔۔ (ماہنامہ الخیر)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

