سلیمان اعمش رحمہ اللہ کا ایک واقعہ

سلیمان اعمش رحمہ اللہ کا ایک واقعہ

ایک بہت بڑے محدث اور بزرگ گزرے ہیں جو ’’سلیمان اعمش‘‘ کے نام سے مشہور ہیں اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کے استاد بھی ہیں تمام احادیث کی کتابیں ان کی روایتوں سے بھری ہوئی ہیں ۔عربی زبان میں ’’اعمش‘‘ چندھے کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھوں میں چندھیاہٹ ہو ۔جس میں پلکیں گر جاتی ہیں اور روشنی کی وجہ سے اس کی آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہیں چونکہ ان کی آنکھیں چندھائی ہوئی تھیں ۔اس وجہ سے ’’اعمش‘‘ کے لقب سے مشہور تھے ان کے پاس ایک شاگرد آگئے وہ شاگرد اعرج یعنی لنگڑے تھے ۔پائوں سے معذور تھے ۔ شاگرد بھی ایسے تھے جو ہر وقت استاد سے چمٹے رہنے والے تھے ۔جیسے بعض شاگردوں کی عادت ہوتی ہے کہ ہر وقت استاد سے چمٹے رہتے ہیں جہاں استاد جارہے ہیں وہاں شاگرد بھی ساتھ ساتھ جارہے ہیں ۔ یہ بھی ایسے تھے ۔چنانچہ امام اعمش رحمۃ اﷲ علیہ جب بازار جاتے تو یہ اعرج شاگرد بھی ساتھ ہوجاتے ۔بازار میں لوگ فقرے کستے کہ دیکھو استاد ’’چندھا‘‘ ہے اور شاگرد ’’لنگڑا‘‘ ہے ۔چنانچہ امام اعمش رحمۃ اﷲ علیہ نے اپنے شاگرد سے فرمایا کہ جب ہم بازار جایا کریں تو تم ہمارے ساتھ مت جایا کرو ۔ شاگرد نے کہا کیوں؟
میں آپ کا ساتھ کیوں چھوڑ دوں؟ امام اعمش رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ جب ہم بازار جاتے ہیں تو لوگ ہمارا مذاق اڑاتے ہیں کہ استاد چندھا ہے اور شاگرد لنگڑا ہے ۔شاگرد نے کہا: مالنا نوجرو یاثمون
حضرت! جو لوگ مذاق اڑاتے ہیں ۔ان کو مذاق اڑانے دیں ۔اس لئے کہ اس مذاق اڑانے کے نتیجے میں ہمیں ثواب ملتا ہے اور ان کو گناہ ہوتا ہے ۔اس میں ہمارا تو کوئی نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہے ۔حضرت امام اعمش رحمۃ اﷲ علیہ نے جواب میں فرمایا کہ:۔
نسلم ویسلمون خیراً من ان نوجرو یاثمون
ارے بھائی! وہ بھی گناہ سے بچ جائیں اور ہم بھی گناہ سے بچ جائیں ۔یہ بہتر ہے اس سے کہ ہمیں ثواب ملے اوران کو گناہ ہو ۔میرے ساتھ جانا کوئی فرض وواجب تو ہے نہیں ۔ اور نہ جانے میں کوئی نقصان بھی نہیں ۔البتہ فائدہ یہ ہے کہ لوگ اس گناہ سے بچ جائیں گے ۔اس لئے آئندہ میرے ساتھ بازار مت جایا کرو ۔یہ ہے دین کی فہم اب بظاہر تو شاگرد کی بات صحیح معلوم ہورہی تھی کہ اگر لوگ مذاق اڑاتے ہیں تو اڑایا کریں لیکن جس شخص کی مخلوق خدا پر شفقت کی نگاہ ہوتی ہے وہ مخلوق کی غلطیوں پر اتنی نظر نہیں ڈالتا بلکہ وہ یہ سوچتا ہے کہ جتنا ہوسکے میں مخلوق کو گناہ سے بچالوں۔یہ بہتر ہے اس لئے انہوں نے بازارجانا چھوڑ دیا ۔بہرحال جس جگہ کا یہ اندیشہ ہو کہ لوگ اور زیادہ ڈھٹائی کا مظاہرہ کریں گے تو اس صورت میں کچھ نہ کہنا بہتر ہوتا ہے (اصلاحی خطبات ج ۸)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more