روحانی امراض کے ازالہ کی فکر ازحد ضروری ہے
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ اگر کسی کو کوئی مرض ہوجاتا ہے تو عادت یوں ہے کہ اوّل اپنے شہر میں علاج کراتے ہیں اور اگر وہاں صحت نہیں ہوتی تو قرب و جوار کے شہروں میں جاتے ہیں ۔ اگر وہاں بھی امید صحت نہ ہو تو دور دراز کا سفر اختیار کرتے ہیں لیکن آج تک باستثناء شاذ و نادر کسی کو نہ دیکھا ہوگا کہ اگر اس کو کوئی مرض اعتقادی یا عملی لاحق ہوگیا ہو تو اس نے محض اس کے ازالے کے واسطے سفر اختیار کیا ہو بلکہ سفر تو درکنار نہایت درجہ تقاضوں کے باوجود اپنے گھر میں بیٹھ کر بھی شبہات کو قلم بند کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ اس سے زیادہ کیا بے فکری ہوگی۔ علماء ہر حال میں موجود ہیں لیکن کوئی ان سے کام بھی تو لے۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۳۵۶)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

