بیعت کے وقت ہدیہ لینے کا نقصان ہے
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ ہم تو وعظ میں بھی مٹھائی نہیں بانٹتے ، اس لیے کہ حرصا حرصی یہ رسم بڑھ جاوے گی ۔ پھر غرباء کہیں گے کہ ہمارے پاس نہیں ہے ، ہم کیسے وعظ کہلوائیں۔ بعض اہلِ حق پیر بھی نذرانہ بیعت کے وقت لے لیتے ہیں اور فی نفسہٖ اس میں کوئی خرابی بھی نہ تھی مگر مجھے تجربہ سے اس میں یہ احتمال ہوا کہ یہ بھی مفسدہ ہے۔ لیتے دیتے دیکھ کر غرباء کی ہمت بیعت کی نہ ہوگی یا ان کو فکر کرنا پڑے گی ۔ الٰہ آباد میں ایک شخص نے بیعت کرکے کچھ ہدیہ پیش کیا ، میں نے لوٹا دیا۔ بس اسی وقت ایک شخص اٹھا اور یہ کہا کہ مجھے اشتیاق تھا مگر یہ سوچ رہا تھا کہ کیا پیش کروں گا ۔ اسی طرح ضلع اعظم گڑھ میں ایک صاحب اپنے گھر لے گئے اور نذرانہ دیا۔ میں نے کہا یہ طریقہ نہیں ہے دینے کا ، اس کے تو یہ معنی ہیں کہ میں اسی لیے آیا تھا ، اس میں میری اہانت ہے ۔ دوسرے یہ کہ کسی غریب کی ہمت نہ ہوگی کہ اپنے گھر لے جاسکے ۔ وہ اس بات کا برا مان گئے مگر اس کے بعد پھر بہت سے شخص اپنے گھر لے گئے ، کسی نے کچھ جلیبی پیش کردی ، کسی نے شربت ہی پلا دیا۔اگر ان پہلے صاحب سے انکار نہ کیا جاتا تو ان بیچارے غریبوں کی ہمت نہ ہوتی ۔ اللہ تعالیٰ نے فوراً ظاہر کردیا۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۲۲۶)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

