ذلت سے بچنے کے آٹھ اُصول (39)۔

ذلت سے بچنے کے آٹھ اُصول (39)۔

عرب کی کہاوتیں صدیوں کے تجربات کا نچوڑ ہوتی ہیں اور ایسی جامع ومانع ہوتی ہیں کہ انکے اندر پوری زندگی کا خلاصہ لکھا ہوتا ہے۔ ایک کہاوت ہے :۔
ثمانیۃ اذا اھینوا
فلا یلوموا الا انفسھم۔۔۔۔الخ
یعنی آٹھ لوگ ایسے ہیں کہ جب بھی اُنکی تحقیر وتذلیل یا توہین ہوتی ہے تو اُسکے ذمہ دار وہ خود ہوتے ہیں ۔ اُنکو چاہئے کہ وہ دوسروں کے بجائے خود کو ملامت کریں۔
۔۱) بن بلائے دسترخوان پر پہنچنا:۔
اگر کچھ لوگ کھانا کھا رہے ہوں تو اُنکے ساتھ اچانک کبھی بھی بغیر دعوت کے شامل نہ ہوں۔
۔۲) صاحب خانہ پر مسلط ہونا:۔
کبھی بھی یہ غلطی نہ کریں کہ کسی شخص کے دوکان یا مکان پر جا کر اُس پر غصہ اور جبر کرنا شروع کردیں۔ کیونکہ ایک مشہور ملتی جلتی اردوکہاوت ہے کہ اپنی گلی میں تو ہر کوئی شیر ہوتا ہے۔ تو اگر آپ نے کسی اور کی جگہ پر جا کر اُسکو برا بھلا کہا تو بدلے میں جو اہانت اور تذلیل ہوگی اسکے ذمہ دار آپ خود ہوںگے۔
۔۳) سرگوشی کوسننا:۔
اگر دو بندے سرگوشی کررہے ہوں یاکوئی بات چھپانا چاہیں توبالکل تجسس نہ کریں۔ ورنہذلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
۔۴) شاہِ وقت کی بے عزتی:۔
جس شخص کو سلطانِ وقت بنا دیا جائے اور اللہ تعالیٰ اِسکو عزت دے دیں تو جب تک وہ تخت پر بیٹھا ہوتب تک اُسکے خلاف زبان درازی اور اہانت والے کلمات نہ کہیں۔ اس سے آپکو ہی نقصان ہوگا۔ اُسکا کچھ نہیں جائے گا۔
۔۵) اپنی حیثیت کو یاد رکھیں:۔
یاد رکھیں!جو مجلس آپکے اہل نہیں ہے وہاں کبھی نہ بیٹھیں۔ خواہ وہ چھوٹے بچوں کی مجلس ہو یا بڑے لوگوں کی مجلس ہو۔
۔۶) اَن سنی بات کی گواہی دینا:۔
جس بات کو آپ نے خود اپنے کانوں سے نہ سنا ہو اور جس واقعہ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہو اُسکی گواہی نہ دیں اور نہ ہی وہ آگے کسی کو سنائیں ورنہ ضرور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
۔۷) دشمن سے خیر کی توقع رکھنا:۔
اپنے جانی دشمن سے کبھی بھی حسنِ ظن نہ رکھیں ورنہ بہت ہی سخت مصیبتکا سامنا کرنا پڑے گا۔ حسنِ ظن ایک ثواب کا عمل ہے لیکن دشمن سے ہوشیاررہنا اوراپنی جان کی حفاظت کی فکر کرتے رہنا بھی فرض ہے۔
۔۸) کمینے شخص سے اچھی امید رکھنا:۔
کوئی شخص جب کمینہ مشہور ہوجائے اور سب لوگ اُسکے شر سے ڈرتے ہوں اور اس سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوں تو کبھی بھی ایسے شخص کے پاس فضل اور عزت کی تمنا لے کر نہ جائیں ۔ وہ یقیناً آپکو بھی بے عزت ہی کریگا۔خواہ آپ جتنے بھی اچھے ہوں۔

نوٹ : یہ ’’آج کی بات‘‘ ایک بہت ہی مفید سلسلہ ہے جس میں حذیفہ محمد اسحاق کی طرف سے مشاھدات،خیالات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر ہوتی ہے ۔ یہ تحریر ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online/
پر مستقل شائع ہوتی ہے ۔ ہر تحریر کے عنوان کے آگے ایک نمبر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس اسکی قسط کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کون سی قسط ہے ۔ پچھلی قسطیں بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔ اگر کوئی پیغام یا نصیحت یا تحریر آپکو پسند آتی ہے تو شئیر ضرور کریں ۔ شکریہ ۔
مزید اپڈیٹس کے لئے ہمارے واٹس ایپ چینل کو ضرور فالو کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M

Most Viewed Posts

Latest Posts

ظاہری حال سے شیطان دھوکا نہ دے پائے (326)۔

ظاہری حال سے شیطان دھوکا نہ دے پائے (326) دوکلرک ایک ہی دفتر میں کام کیا کرتے تھے ایک بہت زیادہ لالچی اور پیسوں کا پجاری تھا۔ غلط کام کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتاتھا۔ جہاں کہیں خیانت اور بددیانتی کا موقع ہوتا تو بڑی صفائی سے اُسکا صاف ستھرا...

read more

استاذ اور شاگرد کے درمیان تعلق مضبوط کیسے ہوگا؟ (325)۔

استاذ اور شاگرد کے درمیان تعلق مضبوط کیسے ہوگا؟ (325)۔ مدرسہ استاذ اور شاگرد کے تعلق کانام ہے۔جہاں پر کوئی استاذ بیٹھ گیا اور اس کے گرد چند طلبہ جمع ہوگئے تو وہ اک مدرسہ بن گیا۔مدرسہ کا اصلی جوہر کسی شاندار عمارت یا پرکشش بلڈنگ میں نہیں، بلکہ طالبعلم اور استاد کے...

read more

خلیفہ مجاز بھی حدودوقیود کے پابند ہوتے ہیں (324)۔

خلیفہ مجاز بھی حدودوقیود کے پابند ہوتے ہیں (324)۔ خانقاہی نظام میں خلافت دینا ایک اصطلاح ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ صاحب نسبت بزرگ اپنے معتمد کو نسبت جاری کردیتے ہیں کہ میرے پاس جتنے بھی بزرگوں سے خلافت اور اجازت ہے وہ میں تمہیں دیتا ہوں ۔یہ ایک بہت ہی عام اور مشہور...

read more