حج میں جانے والوں کو حسرت بھری نگاہوں سے
دیکھنے سے بھی ثواب ملتا ہے
رمضان المبارک کے بعد حاجیوںکی روانگی ہوتی ہے تو غیر حاجیوں کے دل پر نشتر سا لگتا ہے اور وہ بھی حسرت کے ساتھ ان جانے والوں کو دیکھتے ہیں ، اور اس وقت ہر مسلمان کے دل میں ایک خاص داعیہ پیدا ہوتا ہے کہ ہائے ہم بھی اس وقت حج کو جاتے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک مومن کی نیت ہی بڑی چیز ہے ۔ بعض روایات میں ہے کہ مومن کی خالص نیت اس کے عمل سے بہتر ہے۔ اور حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک غزوہ میں صحابہ سے فرمایا کہ بعض لوگ ایسے ہیں جو اس وقت ظاہر میں تمہارے ساتھ نہیں مگر اللہ کے نزدیک وہ ہر منزل اور ہر مقام میں تمہارے ساتھ ہیں اور ثواب میں برابر کے شریک ہیں ، اور یہ وہ معذورین ہیں جو عذر کی وجہ سے تمہارے ساتھ شریک ِ سفر نہ ہوسکے مگر ان کا دل یہ چاہتا تھا کہ وہ بھی تمہاری طرح جہاد کریں۔ اس حدیث ِ پاک میں مشتاقانِ حج (یعنی جو حج کے شوق میں بے چین ہیں اور استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے یا کسی عذر کی وجہ سے نہیں جاسکتے ایسے لوگوں)کا حاجیوں کے ساتھ حج میں شریک ہونا واضح ہوگیا۔ (امدادالحجاج ،صفحہ ۱۰۹)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات جو حج سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں
