قربانی اعلیٰ درجہ کا مجاہدہ ہے کیونکہ قربانی کرنے سے ہمارا دل دُکھتا ہے
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
فرمایا کہ قربانی کو دیکھ کر بعض مخالف قوموں کا یہ کہنا ہے کہ مسلمان بے رحم ہیں. یہ ان کی سخت غلطی ہے اس لئے کہ رحم ایک وجدانی کیفیت ہے۔ ہر ایک شخص کو اپنی کیفیت معلوم ہے، دوسرے کی کیفیت ہرگز معلوم نہیں ہوسکتی۔ مسلمانوں کے رحم دل ہونے کی یہ کھلی ہوئی دلیل ہے کہ مسلمان باوجودیکہ قربانی کرتے ہیں مگر پھر بھی ان کے دل میں اس قدر رحم ہے کہ وہ کسی جانور کی تکلیف کو نہیں دیکھ سکتے بلکہ واللہ مسلمان تو عین ذبح کرتے ہوئے بھی جانور پر رحم کرتے ہیں اور ذبح کی حالت میں دیکھ کر ان کا دل پگھل جاتا ہے۔ ہمارے استاد حضرت مولانا محمود حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک گائے کا بچہ قربانی کے لئے پالا تھا۔ اس کی بڑی خدمت کی جاتی تھی اور خود اس کو جنگل میں لے جاکر اس کے ساتھ دوڑتے تھے۔ غرض اس سے بہت ہی محبت تھی اور وہ گائے بہت تندرست تھی۔ اس کی قیمت (اس زمانے میں) ۸۰ روپے تک قصائی دیتے تھے مگر مولانا نے نہیں دی اور قربانی کردی۔ لیکن حالت یہ سنی گئی تھی کہ مولانا روتے جاتے تھے اور قربانی کرتے جاتے تھے۔ دیکھئے؛ یہ کتنا بڑا مسلمانوں کا مجاہدہ ہے کہ دل پانی پانی ہوتا ہے اور پھر بھی قربانی کرتے ہیں۔ واللہ یہی نفس کی قربانی ہے کہ نفس کے خلاف کام ہو۔ یہ مسلمان ہی کا دل ہے کہ نفس کی خواہشوں پر خاک ڈالتا ہے اور باوجودیکہ رحم سے پانی پانی ہوتا ہے پھر بھی قربانی کرتا ہے۔ واللہ یہ اعلیٰ درجہ کا مجاہدہ ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

