محبتِ خداوندی کی مثال
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ جن حضرات میں خدا کی محبت غالب ہوتی ہے ان کے تمام کام خدا ہی کے واسطے ہوتے ہیں گوظاہر میں وہ دنیا کے کام معلوم ہوتے ہیں۔ ان کو دنیا میں لگ کر بھی خدا سے غفلت نہیں ہوتی۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کو اس کی معشوقہ نے بلایا اور وہ چاہتا ہے کہ معشوقہ کے پاس اس ہیئت سے جاؤں کہ وہ دیکھ کر خوش ہو، اس لیے حجام کو بلایا کہ وہ خط بنائے، غسل کرے، اچھے کپڑے پہنے اور اس کے بعد محبوبہ کے پاس جائے تو جو شخص عشق سے خالی ہے وہ اس کو اس شغل میں دیکھ کر یوں کہے گا کہ یہ تو بناؤ سنگھار میں مشغول ہے محبوب سے غافل ہے مگر اس کو کیا خبر ہے کہ اس کی نیت ہر چیز میں محبوب ہی کے لیے ہے، کپڑے پہنتا ہے تو اس نیت سے کہ محبوب خوش ہوگا اور غسل کرتا ہے تو اس نیت سے کہ محبوب کو اچھا لگوں گا۔ غرض اس کی ہر چیز میں محبوب ہی مقصود ہے۔ جب یہ حالت ہے تو اس کو محبوب سے غافل کس طرح کہیں گے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

