اسلام کے باغی کی مثال
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ بعض مدعیانِ عقل کو اس میں شبہ ہے کہ ایک شخص میں سارے کمالات سخاوت، مروت، ایثار اور قومی ہمدردی وغیرہ سب کچھ موجود ہیں لیکن یہ شخص مسلمان نہیں تو اس کی نجات نہ ہوگی۔ اس کی ایسی مثال ہے کہ ایک شخص ایم اے، ایل ایل بی، سائنس کا بڑا ماہر اور انگریزی دان ہو اور اس نے صنعتیں ایسی ایجاد کی ہوں کہ اہلِ یورپ بھی دنگ ہوں مگر یہ شخص باغی سلطنت ہو تو جج اس کو پھانسی، عبورِ دریائے شور یا حبس دوام کی سزا دے گا اور آپ کو اس پر وسوسہ بھی نہ آئے گا کہ ایسی سخت سزا انصاف اور ترحم کے خلاف ہے جبکہ مذکورہ شخص میں اتنی صلاحیتیں موجود ہیں۔ اور خدا نے جو اس کے مثل فیصلہ فرمایا اس پر شبہ پیش کر دیا، صاحبو! یہ کیسا ایمان ہے؟
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

