تقویٰ کا ہیضہ
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ایک صاحب نے عرض کیا کہ بعض مرتبہ کوئی عمل ترک ہوتا ہے لیکن اس کے ترک کے اندر اختیار کو کچھ دخل نہیں ہوتا لیکن پھر یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ شاید اس کے اندر فلاں وجہ سے اختیار کو دخل ہو تو اس وجہ سے اس پر افسوس کرنے کو جی چاہتا ہے۔فرمایا کہ وہم تو کرنا نہیں چاہیے ، بس معتدل طور پر سوچنے کے بعد عمل کرلینا چاہیے اور جو افسوس کہ بلا اختیار ہو وہ تو اچھا ہے۔ پھر فرمایا کہ بعض لوگوں کو تقویٰ کا ہیضہ ہوجاتا ہے۔ مبتدی کا دل بڑھانا چاہیے ، ایسی باتوں سے اس کو تعطل ہوجاتا ہے (یعنی وہ عمل چھوڑ بیٹھتا ہے ) ۔ ہاں منتہی کا حال دوسرا ہوتا ہے، اس کا دل تو ایسا کچلا جاتا ہے کہ پھر بڑھانے سے بھی نہیں بڑھتا اور بالکل یہ اپنے اختیار میں نہیں رہتا۔ ہیبت و انس ان دونوں میں سے جو بھی اس پر مسلط ہوجائے، یہ مجبور ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ عبدالمتین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

