صحیح ترقی کے اسباب

صحیح ترقی کے اسباب

ملفوظاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ

فرمایا کہ اب تو لوگوں کا یہ عقیدہ ہی نہیں رہا کہ ایمان، اخلاص اور اعمال صالحہ کو نصرت ، فلاح اور ترقی میں دخل ہے۔ آج کل تو خدا اور رسول کو چھوڑ کر یہ دیکھا جاتا ہے کہ دوسری قومیں کس طرح ترقی کر رہی ہیں حالانکہ اپنی ترقی کو کفار کی ترقی پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔ اس کو ایک مثال میں سمجھئے ۔ ایک بھنگی عطر فروشوں کے بازار میں بے ہوش ہو کر گر پڑا ۔ وہ لوگ اپنی عادت کے موافق اس کو عطر سونگھانے لگے لیکن وہ ہوش میں نہیں آیا ۔ اتفاقاً ایک دوسرے بھنگی کا ادھر گزر ہوا ۔ اس نے کتے کا پاخانہ سونگھایا اور وہ فوراً ہوش میں آگیا۔ اب اگر کوئی شخص اس بھنگی کے ہوش میں آنے کی تدبیر کو علی الاطلاق مفید سمجھ لے اور عطر سونگھانے کے طریقہ کو غیر مفید سمجھ کر چھوڑ دے۔ پھر اس بھنگی کے نسخہ کو کسی نفیس مزاج لطیف طبع انسان پر استعمال کرےتو نتیجہ یقیناً ناکامی کی شکل میں ظاہر ہوگا ، وہ ہوش میں تو کیا آئے گا ، اور اس کی بے ہوشی و امراض دماغی میں اضافہ ہوگا۔ یہ تو عمدہ اور بیش بہا لخلخوں ہی کے سونگھانے سے ہوش میں آئے گا۔ بس ایسے ہی مسلمان کفار کے طریقوں سے راہ ترقی پر گامزن نہ ہو سکیں گے۔ مسلمانوں کی ترقی اور فلاح کا راز اعمال صالحہ اور احکام شرعیہ پر عمل کرنے میں مضمر ہے۔ لہذا اس پر مداومت کیجئے اور رحمت خداوندی سے ثمرات و نتائج کے امیدوار رہئے۔

فرہنگ: ( لخلخہ: چند خوشبودار چیزوں کا مجموعہ جو تقویت دماغ کے لئے مریض کو سونگھاتے ہیں)

نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

اَسلاف میں تقلیدِ معین عام تھی

اَسلاف میں تقلیدِ معین عام تھی چنانچہ سلف سے لے کر خلف تک اختلافی مسائل میں ایسے ہی جامع افراد کی تقلیدِ معین بطور دستور العمل کے شائع ذائع رہی ہے اور قرنِ صحابہ ہی سے اس کا وجود شروع ہوگیا تھا۔ مثلاً حدیث حذیفہ میں جس کو ترمذی نے روایت کیا ہے، ارشادِ نبوی ہے:انی...

read more

اَسلاف بیزاری ، عدمِ تقلید یا ایک وقت ایک سے زیادہ آئمہ کی تقلید کرلینے کے چند مفاسد

اَسلاف بیزاری ، عدمِ تقلید یا ایک وقت ایک سے زیادہ آئمہ کی تقلید کرلینے کے چند مفاسد حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ اپنے رسالہ ’’اجتہاد و تقلید‘‘ کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں:۔۔۔۔۔ساتھ ہی اس پر غور کیجئے کہ اس ہرجائی پن اور نقیضین میں دائر رہنے کی عادت کا...

read more

سبع سنابل سے ماخوذاربعۃ انہار

سبع سنابل سے ماخوذاربعۃ انہار غور کیا جائے تو شرعی اصطلاح میں ان ساتوں سنابل کا خلاصہ چار ارکان:۔۔ 1ایمان 2اسلام 3احسان 4 اور اعلاء کلمۃ اللہ ہیںجو حقیقتاً انہارِ اربعہ ہیں۔ ’’نہران ظاہران و نہران باطنان‘‘ ایمان و احسان باطنی نہریں ہیں اور اسلام و اعلاء کلمۃ اللہ...

read more