ہماری نماز کی مثال
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ ہمارے اعمال عموماً ناقص اور مختل (نادرست، بگڑا ہوا) ہیں، مثلاً ہم نماز پڑھتے ہیں تو ہر شخص خود سوچ لے کہ ہماری نماز کیسی ہوتی ہے۔ بس حق تعالیٰ کی یہ بڑی رحمت ہے جو مؤاخذہ ہی نہ فرمائیں اور یہ رحمت پر رحمت ہے کہ قبول فرمالیں۔
اور اگر کسی کے عمل اچھے بھی ہوں تب بھی خدا تعالیٰ کی عظمت کے قابل تو ہرگز نہیں۔ بلا تشبیہ اس کی ایسی مثال ہے کہ ایک قومی پہلوان کے پیر ایک لڑکا دبائے۔ ایک صورت تو یہ ہے کہ وہ دبائے ہی نہیں محض نام ہی کے لیے پیروں پر ہاتھ دھرے، یہ تو ناقص ہے کہ اس نے اپنی ہمت کے موافق بھی عمل نہیں کیا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ خوب زور سے دبائے کہ سارا زور ختم کردے۔ اس نے اپنے نزدیک تو بہت کچھ کیا مگر پہلوان کی قوت کے سامنے اس نے کچھ بھی نہیں کیا، اس کو تو خبر بھی نہ ہوگی۔ یہ ہمارے اعمالِ کاملہ کی مثال ہے، ہم اپنے اعمال کو اس وقت تک کچھ سمجھ سکتے ہیں جب تک اپنے اوپر نظر ہو اور جب خدا تعالیٰ کی عظمت پر نظر ہوگی تو پھر دعویٰ کا کیا منہ ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

