کیا آپکی ہینڈفری کی تار … اکثر اُلجھ جاتی ہے؟ (100)۔

کیا آپکی ہینڈفری کی تار … اکثر اُلجھ جاتی ہے؟ (100)۔

روزمرہ زندگی میں ہم اکثر چھوٹی چھوٹی چیزوں سےبہت بڑا سبق سیکھتے ہیں۔ مثلاً آج کل کے نوجوانوں کو ایک بڑا مسئلہ اپنی ہینڈ فری کا ہوتا ہے۔ہینڈ فری کی باریک سی تار اکثر جیب میں اُلجھ جاتی ہے اور ہمیں بڑی پریشانی میں مبتلا کر دیتی ہے۔یہ بڑا ہی مشکل مرحلہ ہوتا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ یہ مسئلہ اب حل نہیں ہوگا یا پھر ایسے محسوس ہوتا ہےجیسے ہینڈفری کی تار جان بوجھ کر ہمیں تنگ کرنا چاہتی ہے۔ ایسے موقع پر زیادہ تر لوگ غصے میں آجاتے ہیں اور فوری طور پر ان تاروں کو زبردستی کھینچ کر سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جسکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہینڈفری کی تار ٹوٹ جاتی ہے اور خرچ کیا ہوا پیسہ بھی ضائع ہوتا ہے۔یعنی مسئلہ حل ہونے کی بجائے مزید خراب ہوجاتا ہے۔
لیکن ذرا ٹھہریے! یہاں ایک اور طریقہ بھی ہے۔صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ آرام سے بیٹھیں اور ذہن میں یہ بات بٹھا لیں کہ یہ تاریں فوری سلجھنے والی نہیں ہیں، لیکن اگر میں صبر سے کام لوں تو یہ یقینی طور پر سلجھ جائیں گی۔ سب سے پہلے ،تار کا سِرا پکڑیں اور اسے غور سے دیکھیںکہ سب سے پہلے کون سا بَل نکالنا ضروری ہے۔ پھر اسکے بعد ایک ایک کرکے ہر بَل کو ختم کرنا شروع کریں۔ جیسے جیسے آپ بل نکالتے جائیں گے، آپ کو محسوس ہوگا کہ یہ الجھی ہوئی تار دھیرے دھیرے سیدھی ہوتی جا رہی ہے، اور آخر کار ہینڈفری مکمل طور پر سلجھ جائے گی۔
یہاں جو بات سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ ہماری زندگی کے مسائل بھی بالکل ہینڈفری کی اس الجھی ہوئی تار کی مانند ہیں۔ اگر ہم ان مسائل کا حل فوری چاہتے ہیں اور غصے یا جلد بازی میں انہیں سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں، تو ہم انہیں مزید بگاڑ لیتے ہیں۔
لیکن اگر ہم آمدہ مسئلے کو سمجھیں اور ذہن میں بٹھا لیں کہ یہ مسئلہ ہم نے آرام سے حل کرنا ہے۔ پھر صبر و تحمل کے ساتھ ایک ایک قدم اٹھائیں، توسارے بَل نکل جائیں گے اور زندگی کا رُخ پھر سے سیدھا ہوجائے گا۔ بالکل ایسے جیسے ہینڈفری کی ہر بَل کو ختم کرتے ہیں، ویسے ہی زندگی کے مسائل کو بھی ایک ایک کرکے سلجھانا پڑتا ہے۔
یاد رکھیں! زندگی میں چھوٹے چھوٹے مسائل بار بار پیش آتے رہیں گے۔ اگر آپ ہر بار غصے میں آکر کھینچنے کی کوشش کریں گے تو نقصان آپ کا ہی ہوگا۔
اسکے برعکس اگر آپ صبر، سمجھداری اور تدبیر سے کام لیں گے، تو مسائل نہ صرف حل ہوں گے بلکہ آپ کے اندر مضبوطی، خوداعتمادی اور مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوگی۔
یہ سبق یاد رکھنا ضروری ہے کہ مسائل زندگی کا حصہ ہیں، اور انہیں حل کرنے کے لیے صبر اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسےمیرے دادا جان رحمہ اللہ تعالیٰ فرمایا کرتے تھے، “اگر پتھر کے نیچے ہاتھ آجائے تو آہستہ آہستہ نکالنا چاہئے، اگر جلدی کروگے تو تمہارااپنا ہی نقصان ہوگا۔”۔

نوٹ : یہ ’’آج کی بات‘‘ ایک بہت ہی مفید سلسلہ ہے جس میں حذیفہ محمد اسحاق کی طرف سے مشاھدات،خیالات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر ہوتی ہے ۔ یہ تحریر ہماری ویب سائٹ
Visit https://readngrow.online/ for FREE Knowledge and Islamic spiritual development.
پر مستقل شائع ہوتی ہے ۔ ہر تحریر کے عنوان کے آگے ایک نمبر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس اسکی قسط کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کون سی قسط ہے ۔ پچھلی قسطیں بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔ اگر کوئی پیغام یا نصیحت یا تحریر آپکو پسند آتی ہے تو شئیر ضرور کریں ۔ شکریہ ۔
مزید اپڈیٹس کے لئے ہمارے واٹس ایپ چینل کو ضرور فالو کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M

Most Viewed Posts

Latest Posts

ظاہری حال سے شیطان دھوکا نہ دے پائے (326)۔

ظاہری حال سے شیطان دھوکا نہ دے پائے (326) دوکلرک ایک ہی دفتر میں کام کیا کرتے تھے ایک بہت زیادہ لالچی اور پیسوں کا پجاری تھا۔ غلط کام کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتاتھا۔ جہاں کہیں خیانت اور بددیانتی کا موقع ہوتا تو بڑی صفائی سے اُسکا صاف ستھرا...

read more

استاذ اور شاگرد کے درمیان تعلق مضبوط کیسے ہوگا؟ (325)۔

استاذ اور شاگرد کے درمیان تعلق مضبوط کیسے ہوگا؟ (325)۔ مدرسہ استاذ اور شاگرد کے تعلق کانام ہے۔جہاں پر کوئی استاذ بیٹھ گیا اور اس کے گرد چند طلبہ جمع ہوگئے تو وہ اک مدرسہ بن گیا۔مدرسہ کا اصلی جوہر کسی شاندار عمارت یا پرکشش بلڈنگ میں نہیں، بلکہ طالبعلم اور استاد کے...

read more

خلیفہ مجاز بھی حدودوقیود کے پابند ہوتے ہیں (324)۔

خلیفہ مجاز بھی حدودوقیود کے پابند ہوتے ہیں (324)۔ خانقاہی نظام میں خلافت دینا ایک اصطلاح ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ صاحب نسبت بزرگ اپنے معتمد کو نسبت جاری کردیتے ہیں کہ میرے پاس جتنے بھی بزرگوں سے خلافت اور اجازت ہے وہ میں تمہیں دیتا ہوں ۔یہ ایک بہت ہی عام اور مشہور...

read more