کھیل و تفریح سے متعلق سنتیں
اسلام صحت و تندرستی کے حصول کے لیے کھیلوں کی اجازت دیتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا خود کرکے دکھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیراکی کی دوڑ لگائی، گھڑ سواری کی، کشتی کھیلی، تیر اندازی کی، باغات کی سیر کی۔ ان اُمور میں جہاں بے شمار اسلامی اور جہادی صفات وابستہ ہیں وہاں شرعی تفریح اور تندرستی مقصود بھی ہے۔
اسلام قید کا مذہب نہیں اور نہ ہی سختی کا مذہب ہے بلکہ اسلام پابندی کا مذہب ہے۔ اُمت جب بھی ان پابندیوں کو اپنے اوپر لاگو کرکے زندگی گزارے گی وہ خوشحال اور کامران اور ترقی کی منازل طے کرتی چلی جائے گی۔
جب ہم حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواجی زندگی کو دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ آپ اپنی ازواج کو تفریح کے لیے وقت دیتے اور اپنی ازواج کو ہنساتے، کتابوں میں آتا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوڑ لگائی اور ایک مرتبہ دو حبشیوں کا مقابلہ ہورہا تھا تو آپ نے پردہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو وہ مقابلہ دکھلایا۔ غرض یہ کہ آپ اپنی ازواج کی تفریح کے لیے وقت دیتے تھے۔
حضور اقدس صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر صحابہ اور صحابیات خوشی کے مواقع کو بھرپور انداز سے انجوائے کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کا تفریح کے لیے باغوں میں جانا، پھر کھیلوں کے مختلف مقابلے، یہ سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اسلام زہد خشک کو ہرگز پسند نہیں کرتا، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ حدود میں رہ کر آپ ہنسی، کھیلیں، خوشیاں منائیں یا تفریحات کریں، اگر یہ سب جو اعتدال میں ہے تو اسلام نے اس کی اجازت دی ہے۔
پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم رات، رات بھر نفلی عبادت کرتے تھے، کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کی پیروی کرنی چاہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا، تم پر جتنا حق اللہ کا ہے اتنا ہی حق تمہاری جانوں کا بھی ہے، جاؤ کچھ آرام بھی کرلیا کرو، یہی آرام تو ہے جسے آج کی زبان میں ماہرین تفریح کے نام سے موسوم کرتے ہیں، مقصد وہی ہے کہ جو کام آپ مسلسل کررہے ہیں، اس کی طرف سے کچھ دیر کے لیے توجہ ہٹالیں، یہ کام بھرپور نیند لے کر بھی کیا جاسکتا ہے جو آرام کی سب سے بہتر شکل ہے، آپس میں تبادلہ خیال، مختلف النوع موضوع پر گفتگو وغیرہ بھی تفریح کے ذیل میں آتی ہے۔
موجودہ دور کی ناجائز تفریحات
حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ اے علی! اپنی ران دوسروں کے سامنے ظاہر نہ کرو اور کسی زندہ یا مُردہ (کی) ران کی طرف نہ دیکھو۔ (مشکوٰۃ، ابوداؤد، ابن ماجہ)
آج کل ہمارے ہاں جو کھیل مثلاً فٹ بال، ہاکی، ٹیبل ٹینس وغیرہ وغیرہ متعارف و رائج ہیں، ان کھیلوں میں حصہ لینے والے مرد اور عورتیں مندرجہ بالا حدیث طیبہ کی کھلم کھلا مخالفت کرتے ہیں اور مفت میں دیکھنے والے لوگ بھی گناہ گار ہوتے ہیں۔
ناف سے لے کر گھٹنے کے ختم تک کسی بھی مرد کو کسی مرد کی طرف دیکھنا حلال نہیں ہے۔ اسی طرح کشتیوں کے اکھاڑوں اور فٹ بال وغیرہ کے میچوں میں ناف سے لے کر گھٹنوں کے ختم تک کسی حصہ کو کسی کے سامنے یا کھولنا یا کسی کے ستر کا کوئی حصہ دیکھنا دونوں حرام ہیں۔
افسوس ہے کہ کشتی کے مقابلوں میں اور فٹ بال وغیرہ کے میچوں میں بڑے بڑے دین داری کے دعویدار اس مسئلے کو بھول جاتے ہیں۔ کھیل کے میدان، مختلف کھیلوں میں اور مقابلہ حسن میں عورتوں کے لباس وغیرہ؟ بہرحال اس قسم کے گیمز وغیرہ میں ستر کو ڈھانپنے کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے تاکہ ہم غضب الٰہی سے بچ سکیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ بالا کام (یعنی بدنظری کرنے والے) پر اور جس کی طرف بدنظری کی جائے دونوں پر لعنت فرمائی۔ (بیہقی شریف)…گویا اپنے ستر کو برہنہ کرنے والے اور ان کے برہنہ ستر کو دیکھنے والے تمام مرد اور عورتیں ملعون ہیں۔
موسیقی اور اس کے نقصانات
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’گانا‘‘ دل میں نفاق پیدا کرتا ہے جس طرح پانی سے کھیتی پیدا ہوتی ہے۔ ایک روایت میں ’’گانے‘‘ کو شیطان کی آواز بھی کہا گیا ہے۔
موسیقی روح کی سزا
موسیقی شیطان کا ایک دلفریب اور لطیف جال ہے جس میں شیطان دُنیائے انسانیت کو پھانس کر آسانی سے گمراہ کر دیتا ہے۔ بعض لوگوں کے ہاں موسیقی روح کی غذا ہے۔ جیساکہ تفصیلات آگے آرہی ہیں مگر ناچیز کے ہاں موسیقی روح کی غذا نہیں بلکہ روح کی سزا ہے جس طرح مداری ڈگڈی بجا کر بندر کو نچاتا ہے اور لوگوں کو بیوقوف بناکر پیسے بٹورتا ہے (اپنے مقاصد دنیوی) حاصل کرتا ہے۔ بالکل اسی طرح شیطان بھی موسیقی کے تحت دُنیائے انسانیت کو نچاکر (جیساکہ بعض لوگوں کو موسیقی سنتے ہوئے گنگناتے ہوئے یا مزے میں سر مارتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے اور ناچ، ڈانس وغیرہ تو بالکل ہی عام ہے) یہ ثابت کرتا ہے کہ دیکھو!وہ قوم جو خیرالامم اور اشرف المخلوقات ہے آج اسی قوم کو اسی اُمت کو میں نے اپنی ڈگڈی پر نچا کر بیوقوف بنایا ہوا ہے۔
نفاق ایک ایسی برائی ہے جس کا تعلق قلب (دل) سے ہے۔ مندرجہ بالا حدیث طیبہ میں نفاق والے جملہ کا ایک مقصد یہ ہوسکتا ہے کہ جو آدمی موسیقی میں ملوث ہوگا، دینی اور دنیوی لحاظ سے اس کے ظاہر اور باطن میں فرق ہوگا۔ دوسرا مقصد اس جہالت کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ دینی اُمور اور نیک کاموں سے دور ہوتا چلا جائے گا اور ایک مقصد علماء حدیث نے یہ بھی بیان فرمایا کہ اس کی موت نفاق پر واقع ہوگی۔ واللہ اعلم
کسی بھی بیماری کا خطرناک اور آخری درجہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی بیمار شخص بیماری کو بیماری ہی نہ سمجھے، اسی طرح گناہ کا آخری اور مہلک درجہ یہ ہے کہ انسان گناہ تو کرے لیکن گناہ کو گناہ ہی نہ سمجھے بلکہ اُلٹا اس پر فخر کرے۔ ہمارے ہاں آج کل بعض اپ ٹو ڈیٹ اور جدت پسند طبقے موسیقی اور رقص و سرود کو گناہ ہی نہیں سمجھتے بلکہ اسے فن لطیف، آرٹ، باعث تفریح، ثقافت اور روح کی غذا اور نہ معلوم کیا کیا کہتے ہیں۔
نافرمانیاں اور ان کے عذابات
جبکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب لوگ محصول مملکت کو اپنی دولت بنالیں گے اور امانت کو غنیمت اور زکوٰۃ کو تاوان سمجھیں گے اور غیر دین کے لیے علم پڑھیں گے اور آدمی اپنی بیوی کا تابعدار بن جائے گا اور ماں کا نافرمان ہو جائے گا، اپنے دوست کو آرام پہنچائے گا اور اپنے باپ کو ستائے گا اور لوگ مسجدوں میں شور مچائیں گے اور خاندان کا سردار فاسق شخص ہوگا اور قوم کا رئیس ایک رذیل آدمی ہوگا اور انسان کے شر و فساد سے ڈر کر لوگ اس کی تعظیم کریں گے اور گانے بجانے والیاں اور گانے بجانے کی چیزیں عام طور پر ظاہر ہوں گی اور شراب پی جانے لگے گی اور اس اُمت کے پچھلے لوگ اپنے پہلے والوں پر لعنت بھیجیں گے، اس حالت میں لوگ منتظر رہیں کہ ایک سرخ آندھی اُٹھے گی، زلزلہ آئے گا، خسوف واقع ہوگا، صورتیں مسخ ہو جائیں گی، آسمان سے پتھر برسیں گے اور ان کے علاوہ دیگر علامتیں بھی پے در پے ظاہر ہوں گی جس طرح کسی ہار کا دھاگہ توڑ دیا جائے تو موتی لگاتار گرتے چلے جاتے ہیں۔ (پچاس تقریریں)
سنت والی زندگی اپنانے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر مطلوبہ کیٹگری میں دیکھئے ۔ اور مختلف اسلامی مواد سے باخبر رہنے کے لئے ویب سائٹ کا آفیشل واٹس ایپ چینل بھی فالو کریں ۔ جس کا لنک یہ ہے :۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M
