نیک لوگوں کی دو قسمیں
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ نیک لوگوں کی قسمیں ہیں۔ ایک تو وہ لوگ جو محض کتاب دیکھ کر نیک ہوئے، نہ انہوں نے کسی بزرگ کی صحبت اٹھائی، نہ وہ کسی بزرگ کے زیرتربیت رہے۔ اور دوسری قسم کے وہ لوگ ہیں کہ وہ بزرگوں کی صحبت میں بھی رہے اور انہوں نے ان بزرگ سے اپنی تربیت بھی کرائی۔ میں ان دونوں قسموں میں فرق سمجھتا ہوں کیونکہ جو دین کی سمجھ بزرگوں کی صحبت اور تربیت میں رہ کر حاصل ہوتی ہے، وہ دور رہ کر نری کتابوں کے مطالعہ پر اکتفا کر لینے سے نہیں حاصل ہوتی اور اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک تو وہ شخص ہے جس نے طب کی کوئی کتاب دیکھ کر بلا مشورہ طبیب محض اپنی رائے سے مقویات کا استعمال کیا ہو اور ایک وہ جس نے کسی طبیب کے زیر علاج رہ کر اس کی رائے سے مقویات کھائی ہوں، ان دونوں میں بڑا فرق ہوگا۔ اس وجہ سے ضروری ہے کہ محض کتابوں کے مطالعہ کو کافی نہ سمجھا جائے بلکہ اس کے ساتھ اس کا انتظام بھی ضروری ہے کہ کچھ دنوں بزرگوں کی صحبت میں رہ کر ان سے اپنی تربیت کرائی جائے۔ اکبر حسین (الٰہ آبادی ) مرحوم نے خوب کہا ہے۔
نہ کتابوں سے نہ وعظوں سے نہ زر سے پیدا
دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

