نکاح سے پہلے لڑکے اور لڑکی میں تعلقات
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ بعض لوگوں کو اس میں مبتلا پایا کہ منگنی کی ہوئی عورت کے ساتھ جو کہ نکاح کے قبل حرام ہے ، منکوحہ کی طرح معاملہ کرتے ہیں ۔ یوں سمجھتے ہیں کہ یہ جب عنقریب حلال ہونے کو ہے تو ابھی سے حلت شروع ہو گئی ، اس کا باطل ہونا عقلاً و شرعاًظاہر ہے۔اور شاید کسی کو شبہ ہو کہ مخطوبہ کو (جس سے نکاح کرنا ہے) پیغام دینے سے پہلے دیکھنا جائز ہے تو یہ بھی ایک قسم کا استمتاع (حصولِ لذت ) ہے اور استمتاع سب برابر ہیں۔ اس کا جواب خود ہی سوال میں موجود ہے یعنی پیغام کے قبل ہی دیکھ لینا تو جائز ہے جس سے مقصود استمتاع نہیں بلکہ اس کا اندازہ کرنا ہے کہ اس عورت میں جو وصف حسن وغیرہ میں نے سن کر یا سمجھ کر اس سے استمتاع کے حلال ہونے یعنی نکاح کی تجویز سوچی ہے آیا وہ وصف اس میں ہے یا نہیں ، چونکہ نہ ہونے کی صورت میں معاشرت خراب ہونے کا اندیشہ تھا ۔ شریعت نے محض اس غرض کے لیے ایک بار چہرہ دیکھ لینے کی اجازت دے دی ، سو اس ضروری نظر پر جو کہ بغرضِ استمتاع نہیں ہے دوسری نظر جو کہ غیر ضروری ہے ، یا اسی طرح مس(چھونا) وغیرہ کو کیسے قیاس کیا جا سکتاہے (یعنی بالکل ناجائز اور حرام ہے)۔(صفحہ ۱۵۵،اسلامی شادی)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات نکاح یعنی اسلامی شادی سے متعلق ہیں ۔ ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

