نامی گرامی ڈاکو ،اللہ کا ولی کیسے بنا؟

نامی گرامی ڈاکو ،اللہ کا ولی کیسے بنا؟

کتنے واقعات ایسے ہیں کہ اللہ والوں کی تھوڑی دیر کی محفل ملی اور ساتھ ہی زندگی بدل گئی۔
جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں ایک ڈاکو تھا، وہ چھوٹی عمر میں تھا کہ کسی بات میں اس کے والد نے اس کو بہت مارا اور گھر سے نکل گیا اور آوارہ بن گیا۔ اس قسم کے لڑکے جو بے گھر ہو جاتے ہیں تو یہ پھر بری سوسائٹی میں پڑ کر بڑے بدمعاش بن جاتے ہیں۔ اب چونکہ اس کا کوئی سہارا نہیں تھا، بھوکا تھا، کھانا نہیں تھا، اس نے کسی کی کوئی چھوٹی سی چیز چرالی اور پکڑا گیا تو انہوں نے پولیس کے حوالے کردیا۔ پولیس والوں نے اس کو اتنا مارا اتنا مارا کہ اس کے اندر انتقامی جذبہ پیدا ہو گیا۔ حالانکہ وہاں جاتا تو بندہ اصلاح کے لئے ہے لیکن کئی مرتبہ اصلاح کی بجائے الٹا اس کو اور بڑا بدمعاش بنا دیتے ہیں۔ تو جب انہوں نے اس کو بہت مارا تو ضد میں آ کر کہنے لگا: اچھا پہلے میں نے چھوٹی چوری کی تھی اب میں بڑی چوری کروں گا۔ چنانچہ جب یہ باہر نکلا تو اس نے باقاعدہ چوری کرنے کو اپنا پروفیشنل بنا لیا۔ کیونکہ جوان تھا لہٰذا اس کو اس طرح کے لوگ بھی مل گئے، اس پورے گینگ میں یہ سب سے زیادہ تیز طرار تھا۔ حتیٰ کہ یہ اتنا بڑا ڈاکو بن گیا کہ پورے علاقے کے لوگ اس کا نام سن کے ڈرتے تھے، مائیں اپنے بچوں کو اس کا نام لے کر ڈرایا کرتی تھیں۔ خیر بہت عرصہ یہ ڈاکے مارتا رہا، قابو نہیں آتا تھا، چھپ جاتا تھا۔ ایک ایسا موقع آیا کہ یہ پکڑا گیا کیونکہ چوری کی تھی، قاضی کی عدالت میں آیا تو قاضی نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا کہہ دیا، چنانچہ ہاتھ کٹ گیا اوراس کو کچھ عرصہ جیل میں رہنا پڑا۔ آٹھ دس سال کے قریب تو یہ جیل میں رہا مگر اس کے اندر سے وہ ڈاکہ مارنے سے نفرت نہ پیدا ہوئی۔ دس سال کے بعد ابن ثبات جیل سے نکلا پہلے کی نسبت کمزور ہو گیاتھا، کہنے لگا نہیں، اب میں باہر آ گیا ہوں، آج رات کہیں نہ کہیں ڈاکہ ماروں گا، دس سال کے بعد بھی یہ کہہ رہا ہے۔ چنانچہ بغداد کے قریب کرخ ایک چھوٹی سی بستی تھی، یہ وہاں چلا گیا۔ اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیں کہ اس کو ایک بڑے دروازے والا گھر نظر آیا، دیوار کے اوپر سے اندر گیا تو اس نے دیکھا کہ وہاں تو کپڑا ہی کپڑا پڑا ہوا ہے، لگتا تھا کہ کوئی کپڑے کا تاجر ہے۔ اب اس کا ہاتھ ایک اور کپڑے بہت سارے تھے، اس کا جی چاہے کہ سب اٹھائوں اور لے جائوں مگر اٹھا ہی نہیں سکتا تھا۔ اب حیران ہے سوچ رہا ہے کہ کیا کروں؟ تواتنی دیر میں ایک آدمی موم بتی لئے وہیں آ گیا تو یہ ذرا گھبرایا۔ جب یہ گھبرایا تو وہ اس کو کہتا ہے کہ گھبرائو نہیں میں تمہارا ساتھی ہوں، تو یہ ذرا ہمت میں آ گیا کہتا ہے کہ اگر تم میرے ساتھی ہو تو میں پہلے آیا ہوں، حق میرا بنتا ہے، اس نے کہا کہ ٹھیک ہے کہنے لگا کہ یہاں سے سیلیکشن میں کرتا ہوں اور تم گٹھڑی بندھوائو، سحری ہونے میں تھوڑا وقت ہے اورجلدی ہم یہاں سے جائیں۔ اس نے کہا: ٹھیک! اب اس بندے نے اس کے کہنے کے مطابق وہ کپڑے جو تھے علیحدہ کئے، ایک چھوٹی گٹھڑی بنائی اور ایک بڑی گٹھڑی بنائی اور اس کو کہا کہ آپ چونکہ ایک ہاتھ سے اٹھائیں گے تو آپ یہ چھوٹی گٹھڑی اٹھا ئیں اور بڑی گٹھڑی میں اٹھاتا ہوں لیکن میں پہنچا آپ کی جگہ پر دوں گا۔ اس نے کہا کہ ہاں بالکل ٹھیک مگر ابن ثبات کو ڈر ہوا کہ کہیں یہ میرے پیچھے لے کر سلپ ہی نہ ہو جائے، مجھے ہی نہ ہاتھ دکھا جائے تو اس نے کہا: اچھا پھر تم میرے آگے آگے چلو۔ اب اس بندے نے اتنی بڑی گٹھڑی سر پہ رکھی اور آگے آگے، یہ تو ہلکا تھا یہ اس کو کہہ رہا ہے جلدی چلو جلدی چلو وہ چل تو رہا ہے مگر کچھ دور چل کر تھک گیا وزن جو زیادہ تھا۔ ابھی یہ اس کو گالیاں بھی نکال رہا ہے کہ صبح ہو جائے گی فاصلہ بہت ہے جلدی کر، حتیٰ کہ ایک جگہ اس کو اتنا غصہ آیا کہ اس نے پیچھے سے اس کی کمر میں ایک لات ماری۔ اب سر پر بوجھ ہو اور پیچھے سے لات پڑے تو وہ تو منہ کے بل گرا اوراٹھ کر کہنے لگا کہ آپ مجھ پر ناراض نہ ہوں میں کوشش تو کر رہا ہوں مگر بوجھ اتنا زیادہ ہے کہ مجھ سے اٹھایا نہیں جا رہا۔ اس نے کہا: جلدی کرو۔ اس نے پھر اپنے سرپر گٹھڑی رکھی اور ذرا اور تیز پسینے میں شرابور ہانپتا کانپتا اس گھر تک پہنچ گیا، جہاں ابن ِ ثبات نے جانا تھا۔ اوراس نے وہ پہنچائی اور پہنچا کے اس نے کہا بھائی اب صبح کا وقت ہو گیا، اب مجھے آپ اجازت دیں اب کل ملاقات ہوگی۔ اس نے کہا کہ ہاں میں عصر کے وقت میں کل نئی تجویز بنائوں گا تم مجھے ملنا آکر اور پھر ہم مل کر جائیں گے مشن پر، وہ بندہ چلا گیا۔
اگلے دن ابن ِ ثبات کے دل میں خیال آیا کہ کل جس مکان میں ہم نے ڈاکہ مارا مال توبہت پڑا تھا، پتہ کروں کہ کسی کو پتہ بھی چلا یا نہیں، اگر نہیں تو چلا تو آج اور اٹھا کے لے آئیں گے۔ تو ظہرکے بعد ابن ثبات وہاں پہنچا تو دیکھا کہ لوگ آ رہے ہیں اوراس گھر میں جا رہے ہیں، ایک کودیکھا، دوسرے کو دیکھا، تیسرے کو دیکھا، حیران ہوا، پوچھا کہ کیوں جا رہے ہو؟ بھائی کپڑے کے خریدار ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں یہ ہمارے شیخ کا گھر ہے، کونسے شیخ کا گھر؟ جی جنید بغدادی کا گھر ہے۔ اس نے جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کا نام تو سنا ہوا تھا۔ تو ابن ثبات کے دل میں خیال آیا کہ میں دیکھوں تو صحیح کہ جنید بغدادی کون ہیں؟ اب یہ بھی دو چار بندوں کے پیچھے ہو کر تو اندر چلا گیا۔ اللہ کی شان کیا دیکھا کہ مریدوں کا مجمع لگا ہوا ہے اور جس بندے نے رات اس کو گٹھڑی پہنچائی تھی، وہ جنید بغدادی سامنے بیٹھا ان کو نصیحت کر رہا تھا۔ وہ حیران ہو گیا کہ اتنے بڑے شیخ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ اور انہوں نے رات میری گٹھڑی پہنچائی اور گھر بھی انہیں کا، اب جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو پہچان لیا۔ خیر مجلس ختم ہوگئی، سب لوگ اپنے گھروں کو چلے گئے تو جنید بغدادی رحمۃ اﷲ علیہ اور وہ رہ گئے تو یہ ان سے پوچھتا ہے کہ جی آپ تو شیخ تھے رات میرے شاگرد بن گئے؟ تو فرمانے لگے کہ میں نے تجھے پہچان لیا تھا کہ تو ابن ثبات ہے میں نے دیکھا کہ تمہارا ایک ہاتھ ہے اور تم مال لے جانا چاہتے ہو تو میں نے سوچا کہ تمہیں ضرورت ہے اور تم لے جانے کی طاقت نہیں رکھتے توچلومیں ہی تمہارے گھر پہنچادوں۔ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ الفاظ اتنے خلوص سے کہے کہ ابن ثبات کے دل کی دنیا بدل گئی۔ کہنے لگا کہ میں نے تو ایک انسانوں کا طبقہ دیکھا تھا، پولیس والوں کو جنہوں نے مجھے اتنا مارا، اتنا مارا ، اتنی مجھ سے زیادتی کی کہ مجھے ڈاکو بنادیا، میںنے ایسے انسان تو نہیں دیکھے جو اتنے خیر خواہ ہوتے ہیں۔ کہنے لگا کہ میں آج یہاں سے ایسے نہیں جانا چاہتا، میں سیکھنا چاہتا ہوں زندگی کو، چنانچہ ابن ثبات ان سے بیعت ہوا اور پکی توبہ کرلی۔ ساری دنیا کی سزائیں جو بارہ سال کے قریب اسے ملتی رہیں، جس ڈاکو سے توبہ نہ کروا سکیں، حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی محبت اور دل کے خلوص نے ایک رات میں اس دل کو جیت لیا۔ چنانچہ بیعت ہو گیا، حضرت کی خدمت میں آتا رہا تھوڑے عرصے کے بعد حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ سے نسبت پائی اور ان کے خلفاء میں سے ہوا۔
یہ ابن ثبات ہے جس کے بارے میں امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب مسئلہ خلق قرآن پیش ہوا تو اس وقت اتنا زیادہ میرے اوپر پریشر تھا کہ ایک دن میرے دل میں خیال آیا کہ احمد بن حنبل! شریعت نے جان بچانے کے لئے حیلہ کرنے کی اجازت دی ہے، امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الحیل لکھی کہ حیلہ ایسی صورت میں بندہ کیسے کر سکتا ہے تو میں بھی اپنی جان بچانے کے لئے کوئی حیلہ کیوں نہ کر لوں؟ فرماتے ہیں کہ میرے ذہن میں یہ سوچ آئی اور میں اپنے گھر سے باہر نکلا تو مجھے ایک بندہ ملا جس کا ہاتھ کٹا ہوا تھا اورمیرے قریب آکر مجھے کہنے لگا: احمد بن حنبل! میں مشہور اور بدنام زمانہ ڈاکو رہا ہوں اور ان پولیس والوں کے درے مجھے چوری سے نہیں روک سکے، کہیں ان دروں کے ڈر سے حق سے پیچھے نہ ہٹ جانا۔ کہتے ہیں: وہ بات کرکے چلا گیا لیکن میرے دل کو ایک نئی زندگی دے گیا، میں نے یہ فیصلہ کیا کہ اب اگر مجھے جان سے بھی مار دیا جائے تو میں حق کی بات کروں گا۔ اس کے بعد امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ وہ واقعہ پیش آیا کہ ان کو درے لگے تھے۔ اور جب بعد میں اللہ نے ان کو صحت دیدی تو پھر ابن ثبات کا نام لے کر فرمایا کرتے تھے کہ میں اس محسن کا احسان اپنی زندگی میں کبھی نہیں بھول سکتا۔
تو یہ اللہ والوں کی ایسی مجالس ہوتی ہیں کہ ایسے ایسے بدنام زمانہ ڈاکو بھی ان کی صحبت میں آ کر پھر وقت کے اولیاء بن جاتے ہیں۔ اس لئے یہ صحبتیں انسان کے لئے غذا کی مانند ہیں۔(ج 35ص113)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھا سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more