مہمان نوازی میں تکلفات نہیں ۔۔۔۔۔سادگی
حضرت عبدالواحد بن ایمن اپنے والد حضرت ایمن رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے ہاں کچھ مہمان آئے۔۔۔ حضرت جابر ان کے لئے روٹی اور سرکہ لے کر آئے اور فرمایا کھائو ۔۔۔کیونکہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سرکہ بہترین سالن ہے۔۔۔ مہمانوں کے سامنے جو کچھ پیش کیا جائے وہ اسے حقیر سمجھیں ۔۔۔اس سے یہ مہمان تباہ و برباد ہو جائیں گے اور میزبان کے گھر میں جو کچھ ہے ۔۔۔اسے مہمانوں کے سامنے پیش کرنے میں حقارت سمجھے تو اس سے یہ میزبان تباہ و برباد ہو جائیگا۔۔۔ (اخرجہ البیہقی فی الشعب)
حضرت شقیق بن سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اورمیرا ایک ساتھی جو ہم دونوں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔۔۔ انہوں نے فرمایا اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (مہمان کے لئے کھانے میں) تکلف کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں آپ لوگوں کے لئے ضرور تکلف کرتا اور پھر روٹی اور نمک لے آئے (گھر میں اور کچھ تھا نہیں) میرے ساتھی نے کہا اگر نمک کے ساتھ پودینہ ہو جائے (تو بہتر ہے چونکہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس پودینہ خریدنے کے لئے بھی پیسے نہیں تھے اس لئے) انہوں نے اپنا لوٹا بھیج کر گروی رکھوایا اور اس کے بدلہ میں پودینہ لے کر آئے۔۔۔ جب ہم کھانا کھا چکے تو میرے ساتھی نے کہا تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں دی ہوئی روزی پر قناعت کی توفیق عطا فرمائی۔۔۔ یہ سن کر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر دی ہوئی روزی پر قناعت کرتے تو میرا لوٹا گروی رکھا ہوا نہ ہوتا۔۔۔ (اخرجہ الطبرانی)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

