مقتدایان اہل علم کی ذمہ داری
مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے ذیقعدہ ۱۳۸۵ھ میں لائل پور کے جلسہ میں اپنے وعظ ’’وحدتِ امت‘‘ میں ایک واقعہ ارشاد فرمایا جو ہم سب کے لیے قابل عمل و قابلِ عبرت ہے، وہ یہ ہے کہ:۔
حضرت ابی بن کعب اور حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما میں ایک مسئلہ میں باہمی اختلاف ہو رہا تھا۔۔۔۔ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سنا تو غضب ناک ہو کر باہر تشریف لائے اور فرمایا:۔
کہ افسوس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں ایسے دو شخص باہم جھگڑ رہے ہیں، جن کی طرف لوگوں کی نظریں ہیں اور جن سے لوگ دین کا استفادہ کرتے ہیں۔۔۔۔ پھر ان دونوں کے اختلاف کا فیصلہ اس طرح فرمایا کہ:۔
۔’’یعنی صحیح بات تو ابی ابن کعب کی ہے مگر اجتہاد میں کوتاہی ابن مسعود نے بھی نہیں کی۔۔۔۔‘‘(جامع العلم)
پھر فرمایا کہ مگر میں آئندہ ایسے مسائل میں جھگڑا کرتا ہوا کسی کو نہ دیکھوں، ورنہ سخت سزا دوں گا۔۔۔۔حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس ارشاد سے ایک تو یہ بات ثابت ہوئی کہ اجتہادی مسائل و اختلافات میں ایک قول صواب و صحیح ہوتا ہے اور دوسرا اگرچہ صواب نہیں، مگر ملامت اس پر بھی نہیں کی جا سکتی۔۔۔۔
دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ایسے اجتہادی مسائل میں خلاف و اختلاف پر زیادہ زور دینا مقتدایانِ اہل علم کے لیے مناسب نہیں، جس سے ایک دوسرے پر ملامت یا نزاع و جدال کے خطرات پیدا ہو جائیں۔۔۔۔
امام شافعی رحمہ اللہ ایک فقہی مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔
’’دو شخص سفر میں ہیں۔۔۔۔ وہ دونوں ستاروں، ہوائوں، سورج و چاند سے رخ متعین کرنا جانتے ہیں۔۔۔۔ ایک کی رائے ہے کہ قبلہ دائیں جانب ہے، جبکہ دوسرے کی رائے برعکس ہے۔۔۔۔اس صورت حال میں دونوں کے لیے گنجائش ہے کہ متضاد سمتوں میں نماز پڑھ لیں اور کسی ایک پر بھی لازم نہیں کہ وہ دوسرے کی ہر حال میں پیروی کرے جب کہ اس کا اجتہاد اس کے موافق نہیں۔۔۔۔
وجہ یہ ہی ہے کہ کعبہ کو نہ دیکھنے والا کعبہ کی ٹھیک سمت میں نماز پڑھنے کا مکلف نہیں بلکہ وہ تو دلائل کے ذریعے کعبہ کی طرف متوجہ ہونے کا مکلف ہے اور یہ دونوں نے کیا ہے۔۔۔۔‘‘۔
’’وَفِیْ ھٰذَا مِنْ قَوْلِ الشَّافِعِیّ رَحْمَۃُ اﷲِ عَلَیْہِ دَلِیْلٌ عَلٰی تَرْکِ تَخَاطُیِٔ الْمُجْتَھِدِیْنَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ اِذْ کُلُّ وَاحِدٍ مِّنْھُمْ قَدْ أَدّٰی مَا کُلِّفَ بِاِجْتِھَادِہٖ‘‘۔
(مأخذہ کتاب الأم، باب ابطال لاستحسان)
ترجمہ: ’’امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں اس کی دلیل موجود ہے کہ کوئی مجتہد دوسرے مجتہد کو خطا وار نہ قرار دے کیوں کہ ان میں سے ہر ایک نے وہ فرض ادا کر دیا جو اس کے ذمہ تھا۔۔۔۔‘‘۔
اس سے معلوم ہوا کہ دو مختلف آراء کا یہ احترام کہ ان میں کسی کو منکر نہ کہا جائے اور اس کے کہنے ماننے والوں کو خطا وار نہ کہا جائے یہ صرف اس صورت میں ہے کہ اجتہاد صحیح اس کی شرائط کے مطابق ہو۔۔۔۔
