محاسبہ سے متعلق سنتیں
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانو! اپنے دلوں کو سوچنے کی عادت ڈالو اور خدا کی نعمتوں پر غور کیا کرو مگر خدا کی ہستی پر غور نہ کرو۔ (اسوۂ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم)
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اپنے نفس سے محاسبہ کرو، پہلے اس سے کہ تم سے محاسبہ کیا جائے اور اس کو وزن کرو، پیشتر اس کے کہ وزن کیے جاؤ اور عرض اکبر کے لیے مستعد رہو۔ (احیاء العلوم جلد چہارم)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ اپنے نفس سے سختی کے حساب سے پیشتر راحت کے وقت میں حساب لو۔ (احیاء العلوم)
دین مکمل ایماناً و احتساباً ہی کا نام ہے، ہر عمل کے درمیان اور بعد محاسبہ ہی اخلاص کہلاتا ہے۔ شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں جگہ جگہ محاسبہ ملتا ہے ، کہیں نفس کا محاسبہ، مال کا محاسبہ، اوقات کا محاسبہ ، حتیٰ کہ جسم کے ہر ایک عضو کا محاسبہ دین اسلام ہے۔
ہمارے بزرگوں نے محاسبہ کیا ہے، محاسبہ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی سوتے وقت دن بھر کا حساب کرلے، جیسے تاجر شام کو پورے دن کا حساب کرتے ہیں تو ہمیں بھی روزانہ حساب کرنا چاہیے اور توبہ کرلیں کیونکہ گناہ کرنے سے دل پر داغ ہو جاتے ہیں اور توبہ سے وہ صاف ہو جاتے ہیں ورنہ بغیر توبہ کے پورا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔
محاسبے پر ایک بزرگ کا واقعہ
ہمارے اسلاف تو باقاعدہ اپنا محاسبہ کرتے تھے۔ ایک بزرگ توبہ بن سمان کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ بیٹھے ہوئے تھے تو فرمایا آہ! میری زندگی کے ساٹھ سال گزر گئے۔ پھر حساب لگایا ساٹھ سال کا مطلب یہ ہے کہ ساڑھے اکیس ہزار دن۔ میں نے اگر زندگی میں روزانہ ایک گناہ بھی کیا ہے تو اللہ تعالیٰ کے حضور ساڑھے اکیس ہزار گناہ لے کر حاضر ہوں گا جبکہ میں روزانہ دسیوں گناہ کرتا ہوں ۔ بس یہ سوچنا تھا کہ ایک چیخ ماری اور انتقال ہوگیا۔
محاسبہ عقل مندی کی دلیل ہے
ایک حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ ’’عقل مندو دانا وہ ہے کہ جو خود ہی اپنا محاسبہ کرتا رہے اور اس وقت کو دھیان میں رکھ کر عمل کرتا رہے جو موت کے بعد آنے والا ہے۔ بیوقوف وہ ہے جو نفس کو تو اس کی خواہشات کے پیچھے لگادے اور اللہ سے بہت ساری اُمیدیں باندھ بیٹھے۔‘‘۔
۔’’الکیس من دان نفسہ وعمل لما بعد الموت والعاجز من اتبع نفسہ ھواھا وتمنّٰی علی اللّٰہ الامانی‘‘ (الحدیث)
انسان کا نفس اور انسان کا دل خواہشات کا مرکز ہے اور تمناؤں اور آرزوؤں کی آماجگاہ ہے، ان دلی خواہشات پر اور نفسانی آرزوؤں پر فکر و عقل کو نظم اور ضبط قائم کرنا چاہیے۔ عقل کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ برائی کیا ہے اور اچھائی کیا ہے؟ … نیک و بد اور گناہ و ثواب کے مابین عقل انسانی کو فرق کرنا چاہیے۔ اگر انسانی عقل یہ فریضہ انجام نہیں دیتی ہے تو پھر انسان اور حیوان کا فرق مٹ جاتا ہے۔
درحقیقت یہ انسانیت کی موت ہے آدمی کو انسان ہونا میسر اسی وقت آسکتا ہے کہ وہ عقل کو سلامت روی کے لیے استعمال کرے، اگر سلامتی کی راہ سے انسان ہٹ گیا اور نفس کا غلام ہوکر برائیوں کی گرفت میں آگیا تو وہ انسان کیسے رہ سکتا ہے؟
محاسبہ غوروفکر کا نام ہے
دراصل محاسبۂ عمل اسی کا نام ہے کہ انسان جو کام کرے اس پر پہلے غور کرے اور جب کام کرچکے تو محاسبہ کرے کہ وہ کام صحیح تھا یا غلط تھا؟ … اگر دل یہ گواہی دے اور ضمیر یہ پکارے کہ ہمارا عمل غلط تھا، ہمارا اقدام صراطِ مستقیم سے ہٹا ہوا تھا تو توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے، بروقت خود احتسابی اور اپنے اعمال کا خود محاسبہ کرنا ہی دراصل یوم حساب کی شرمندگی سے بچا سکتا ہے۔
ایسا آج تک نہیں ہوا ہے اور نہ آئندہ ہوگا کہ انسان غلط کام کرے اور سرخرو ہو، غلط کام بہرحال غلط ہے ، برائی برائی رہے گی اور برائی کرنے والا ہمیشہ پریشان اور بدنام رہے گا ، یہ قانون فطرت ہے اور قوانین فطرت تبدیل نہیں ہوا کرتے۔ قرآن مجید و فرقان حمید میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرما دیا ہے:’’وَنَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا ط وَاِنْ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِھَا ط وَکَفٰی بِنَاحٰسِبِیْنَ‘‘(سورۃ الانبیاء:۲۷)
۔’’قیامت کے دن ہم میزان عدل قائم کریں گے ، کسی پر کوئی زیادتی نہ ہوگی، رتی برابر عمل بھی سامنے لایا جائے گا اور ہم خوب حساب کرنا جانتے ہیں۔‘‘۔
محاسبہ نہ ہونے کے نقصانات
آج ہم جس دُنیا میں ہیں ہم دیکھتے ہیں کہ اس کا ساکن اس کا رہنے والا ہر ایک آج کسی نہ کسی پریشانی میں مبتلا ہے، اخلاقی نظام تباہ ہوچکا ہے اور معاشرتی و معاشی نظام تہ و بالا ہے، انسانیت دم توڑ رہی ہے، شرافت پر مردنی طاری ہے، انسانی عظمت پامال ہے، دُنیا کی یہ حالت اور اس کے بسنے والوں کی یہ کیفیت واضح طور پر نشان دہی کرتی ہے کہ انسان نے اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا چھوڑ دیا ہے، آج کا انسان حق و انصاف سے بے نیاز ہوکر پریشان حال ہے، آج کا انسان فطرت سے متصادم ہوکر شکست خوردہ ہے اور اپنے اللہ سے اور اس کے کلام سے بے پرواہ ہوکر قعر مزلت میں ہے اور ہادیٔ برحق صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت سے منہ موڑ کر اندھیروں میں چلا گیا ہے۔
جب انسان اپنے فکر و عمل کا خود محاسبہ کرنا چھوڑ دیتا ہے تو اس کی سوچ اس کی فکر بیمار ہو جایا کرتی ہے اور جب وہ آخرت سے بے پرواہ ہو جاتا ہے تو دُنیا ہی میں وہ پریشان حال ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے قرآن ندا دیتا ہے۔ ’’یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ ولتَنظُر نفسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللّٰہ انَّ اللّٰہَ خبیرٌ بِما تَعْمَلُوْن‘‘ (سورۃ الحشر:۱۸)
۔’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو، ہر شخص کو چاہیے کہ یہ دیکھتا رہے کہ اس نے آخرت کے لیے کیا عمل آگے بڑھایا ہے ، اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ سب کچھ جانتا ہے کہ تم کیا کررہے ہو۔‘‘۔
آیئے! ہم غور کریں اور آج سے یہ فیصلہ کریں کہ ہم اس دُنیا میں انسان بن کر رہیں گے اور اچھے عمل کریں گے اور اس دُنیا کو گہوارہ ٔ امن بنائیں گے ، ہم اس دُنیا میں قرآنی قانون نافذ کریں گے اور ہمارے رہنما ہادیٔ برحق صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے۔ بے شک اسی میں ہمارے معاشرے کی اور ہماری اپنی تعمیر مضمر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان ہدایات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔
سنت والی زندگی اپنانے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر مطلوبہ کیٹگری میں دیکھئے ۔ اور مختلف اسلامی مواد سے باخبر رہنے کے لئے ویب سائٹ کا آفیشل واٹس ایپ چینل بھی فالو کریں ۔ جس کا لنک یہ ہے :۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M
