مال پہ رال نہیں ٹپکانے چاہئے
آج کے دور میں بھی جو علم کا وارث ہو گا وہ یہی بات کرے گا: جو میرے نصیب میں ہے، اللہ مجھے پہنچا دے گا، میں مال کے پیچھے اپنے دین کو نہیں بیچنے لگا۔ ہم نے دیکھا کہ علماء مال کی وجہ سے ایسی مساجد میں امامت کرتے ہیں جو بدعقیدہ لوگوں کی ہوتی ہیں، بدعات ہو رہی ہوتی ہیں اور خاموش ہوتے ہیں۔ کیا کریں جی ہمیں امامت جو وہاں ملی ہے۔ تو ایسی جگہوں میں جہاں اتنے غلط عقائد کہ شاید دین سے ہی فارغ ہوں وہاں جا کر ان کے امام بنتے ہیں، مال کی خاطر۔
ہمیں ایک صاحب ملے ، بچپن میں اپنی مسجدوں میں سے کسی میں ان کے پیچھے نماز پڑھی تھی ، بیس سال کے بعد ملے، پتہ چلا کہ اب محرم کی مجالس پڑھتے ہیں، آواز اچھی تھی۔ کہنے لگے: جی میں کیا کروں، وہ مجھے ایک رات کے ایک لاکھ روپے دیتے ہیں۔ اتنے پیسے مجھے سارے سال میں کوئی مسجد والا نہیں دیتا، کیا کروں؟ مال پہ رال ٹپکانہ اور دین کے اندر خلل ڈال دینا یہ علماء کا منصب نہیں ہے۔ جو مقدر ہے اللہ دے دیں گے۔ اس لئے ہمارے مشائخ ضروریات کے لئے ترغیب بھی دے دیتے تھے، اطلاع بھی دے دیتے تھے، پیچھے نہیں پھرتے تھے۔ تو ترغیب دینا انفاق فی سبیل اﷲ کے لئے اور اطلاع پہنچا دینا کہ یہاں ضرورت ہے، یہ سنت ہے۔ ترغیب دینا اور ضرورت کا اظہار کرنا، یہ سنت ہے اور دنیاداروں کے پیچھے پھرنا یہ حرام ہے۔ اس کی اجازت نہیں ہے، علم کے اپنے مقام کا خیال ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو فرماتے ہیں:۔
آیت پڑھ کر دل خوش ہو جاتا ہے۔(ج 32ص112)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

