قلب کو فضولیات سے خالی رکھنے کا اہتمام
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ میں تو اس کا خاص اہتمام رکھتا ہوں کہ قلب فضولیات سے خالی رہے کیونکہ فقیر کو تو برتن خالی رکھنا چاہیے ، نہ معلوم کس وقت کسی سخی کی نظر عنایت ہوجائے ۔ ایسے ہی قلب کو خالی رکھنے کی ضرورت ہے ، نہ معلوم کس وقت نظر رحمت ہوجائے ۔ اسی کو فرماتے ہیں ؎
یک چشم زدن غافل ازاں شاہ نباشی
شاید کہ نگاہے کند آگاہ نباشی
(ترجمہ: ایک پل بھر کو اس شاہ کی طرف سے غافل نہ ہو ، ممکن ہے کہ کسی وقت نظر عنایت ہو اور بوجہ غفلت کے تم کو خبر بھی نہ ہو تو محروم رہ جاؤ۔)
غرضیکہ قلب کو خالی رکھنا چاہیے فضولیات سے اور معصیت سے تو خالی رکھنا ضروری ہی ہے۔ بعض سالکین تو مباحات سے بھی خالی رکھتے ہیں مگر اس میں غلو کرنا مضرت ہے کیونکہ شیطان خالی گھر دیکھ کر اپنا تصرف کرنے لگتا ہے ، اس لیے اگر طاعات سے پُر رکھنا مشکل ہے تو مباحاتِ نافعہ سے پُر رکھے مثلاً دوستوں سے ملنا، کھانے وغیرہ کا اہتمام کرنا یا کتاب دیکھ لینا خواہ وہ طاعات کی جنس سے نہ ہو ، تفریح ہی کی جنس سے ہو۔ یہاں پر تفریح سے مراد تھیٹر اور سنیما وغیرہ نہیں بلکہ مباحات ہیں جن کا اوپر ذکر ہوچکا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ وہ مباح فی الجملہ نافع ہو اور اس میں معصیت نہ ہو ۔ یہ سب تدابیر ہیں دین کی درستی کی، اس ہی لیے تو یہ فن بڑا دقیق ہے، اسی لیے یہاں شبہ ہوسکتا ہے کہ مباح کا دین سے کیا تعلق۔اسی طرح اگر خلوت میں نشاط جاتا رہے تو واجب ہے ہنسنا بولنا، مجمع میں آکر بیٹھ جانا۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۳۱۰)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

