قرض دینے سے پہلے احتیاط کریں (98)۔
اگر کوئی بھوکا شخص آپ کے پاس آکر کھانا مانگتا ہے اور آپ کے پاس اسے کھانا کھلانے کی استطاعت ہے، تو اس کی مدد کرنا آپ پر فرض ہے۔ ایسے موقع پر اسے صبر کی تلقین کرنا جبکہ آپ اس کی ضرورت پوری کر سکتے ہیں، گناہ کا باعث ہے۔
اگر آپ کے پاس وسائل نہیں ہیں تو نرمی سے اپنی معذوری کا اظہار کریں۔ لیکن سوالی کا مذاق اڑانا، اسے دین سکھانے بیٹھ جانا یا اس کی شرمندگی کا فائدہ اٹھانا ہرگز مناسب نہیں۔ کسی ضرورت مند شخص کو استغناء کی تعلیم دینا جبکہ وہ اپنی حاجت کے تحت آپ کے پاس آیا ہو، شرعاً پسندیدہ نہیں ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض مالدار افرادضرورتمندوں کے سامنے واعظ بن جاتے ہیں جبکہ انکا فرض ہے کہ فوری طور پر مسئلہ حل کریں یا نرمی سے معذرت کریں۔
اگر ایک شخص قرض مانگنے کے لیے کسی مالدار کے پاس جاتا ہےتو مالدار کوحسنِ سلوک سے پیش آنا چاہیےیعنی تقویٰ کا تقاضایہ ہے کہ مدد بھی کرے اور اللہ سے ڈرتا رہےنہ یہ کہ مدد تھوڑی کرے اور مانگنے والے زیادہ ڈرائے کہ فلاں فلاں شرط اور فلاں مصائب کے تم پابند ہوجاؤگے۔
سیدھا سادہ طریقہ یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس گنجائش ہے تو قرضِ حسنہ دے دیں، اور اگر نہیں ہے تو اپنی صورتحال واضح کرکے معذرت کرلیں۔
لیکن بعض اوقات مالدار شخص غیر ضروری سوالات کرکے قرض مانگنے والے کو شرمندہ کرتا ہے، اور پھر اپنے نفع کی شرائط عائد کرتا ہے۔ مثلاًقرض کی ادائیگی کے علاوہ اضافی رقم یا خدمات کا مطالبہ کرنا، جو کہ شرعاً ناجائز ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “اور اگر قرضدار تنگدست ہو تو اسے آسانی کی مدت تک مہلت دو” (سورۃ البقرۃ: 280)۔ یہاں یہ سمجھایا گیا ہے کہ قرض لینے والا تنگدست ہی ہوتا ہے، اس لیے اسے واپسی کے لیے مناسب وقت دینا چاہیے۔
مالدار شخص کو چاہیے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق قرض دے، فقط اتنا دے کہ اگر وہ واپس نہ بھی ملے تو وہ صبر کر سکے۔ اس طرح دینے سے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر کا مستحق ہوگا۔
ہاں ایک بات ضرور یاد رکھیں کہ اگر تحقیق کے بعد یقین ہو جائے کہ کوئی شخص قرض واپس نہیں کرے گا تو اسے قرض نہ دینا جائز ہے۔
اور اسی طرح قرض دینے والے کو ایک اور ہدایت یہ ہے کہ دیتے وقت مالدار شخص کو یہ ضروری نہیں ہوتاکہ وہ قرض لینے والے کی ڈیمانڈ کے مطابق دینے کا پابند ہو۔ بلکہ وہ اپنی وسعت کے مطابق قرض دینے کا پابند ہے۔
نیز قرض دیتے وقت نفع کی کوئی شرط نہ لگائی جائے، کیونکہ یہ سود کے زمرے میں آتا ہے جو کہ حرام ہےبلکہ ایسی شرائط بھی نہیں لگانی چاہئیں جن سے قرض دینے والے کو اضافی فائدہ ہو مثلاً قرض خواہ سے اپنی خدمت کروانا یا اس پر اضافی اخراجات ڈالنا۔ یہ سب سود کے زمرے میں آتا ہے اور اس سے اجتناب لازم ہے۔
ان تمام امور میں اعتدال کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ نہ اتنی سختی کی جائے کہ اسلامی بھائی چارے کا حکمقرض خواہ کے لئے تذلیل بن جائے، اور نہ اتنی نرمی کہ لوگ آپ سے قرض لے کر واپس نہ کریں۔
نوٹ : یہ ’’آج کی بات‘‘ ایک بہت ہی مفید سلسلہ ہے جس میں حذیفہ محمد اسحاق کی طرف سے مشاھدات،خیالات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر ہوتی ہے ۔ یہ تحریر ہماری ویب سائٹ
Visit https://readngrow.online/ for FREE Knowledge and Islamic spiritual development.
پر مستقل شائع ہوتی ہے ۔ ہر تحریر کے عنوان کے آگے ایک نمبر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس اسکی قسط کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کون سی قسط ہے ۔ پچھلی قسطیں بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔ اگر کوئی پیغام یا نصیحت یا تحریر آپکو پسند آتی ہے تو شئیر ضرور کریں ۔ شکریہ ۔
مزید اپڈیٹس کے لئے ہمارے واٹس ایپ چینل کو ضرور فالو کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M

