فرعون کا فتویٰ
ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام فرعون کے پاس ایک استفتاء (سوال نامہ) لے کر آئے جس کا مضمون یہ تھا کہ اس غلام کے بارے میں کیا فتویٰ ہے جو آقا کے مال و نعمت میں پلا، پھر اس غلام نے اپنے آقا کی نعمت کا کفران (ناشکری) کیا اور اس کا حق نہ مانا اور خود آقا ہونے کا دعویٰ کردیا تو ایسے غلام کا کیا حکم ہے؟ فرعون نے اپنے ہاتھ سے اس کا جواب لکھا کہ ایسے غلام کی سزا یہ ہے کہ اس کو سمندر میں ڈبو دیا جائے اور اس فتویٰ پر حضرت جبرئیل علیہ نے فرعون کے دستخط بھی لے لیے۔۔۔ فرعون نے اپنے قلم سے لکھ دیا کہ یہ وہ جواب ہے جو ابوالعباس ولید بن مصعب یعنی فرعون نے لکھا ہے۔۔۔ جب فرعون غرق ہونے لگا اور اپنا ایمان ظاہر کرنے لگا تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اس کے ہاتھ کا لکھا ہوا فتویٰ اس کو دکھایا اور فرمایا کہ یہ تیرے فتوے کے بموجب تیرے ساتھ ہورہا ہے۔۔۔ (از معارف کاندھلوی)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

