عید کے دن روزہ رکھنا کیوں حرام ہے
ملفوظاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ ماہ رمضان کے روزے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کئے ہیں اور یکم شوال لوگوں کی عید اور خوشی کا دن ہے جس میں خدا تعالیٰ نے لوگوں پر کھانا پینا بطور شکر گزاری کے (انعام کے طور پر) مباح کیا ہوا ہے۔ اس لئے اس دن سب لوگ خدا تعالیٰ کے مہمان ہوتے ہیں۔ لہذا خدا تعالیٰ کے مہمان کو واجب ہے کہ اس کی دعوت اور مہمانی کو قبول کرے اور یہ امر خدا تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے کہ اس دن کوئی شخص روزہ رکھ کر خدا تعالیٰ کی مہمان نوازی اور دعوت کو رد کردے۔ مہمان کے لوازم اور آداب میں سے یہ بھی ہے کہ اگر روزہ رکھے تو صاحب خانہ یعنی میزبان سے پوچھ کر رکھے۔ پس جب یکم شوال کو تمام مسلمان خدا تعالیٰ کے خاص مہمان ہوتے ہیں تو پھر اس دن کسی کو روزہ رکھنا کیسے جائز ہو سکتا ہے۔ الغرض یکم شوال (یعنی عید کا دن) ایسا دن ہے کہ اس میں تمام مسلمان اپنے پروردگار کے مہمان ہوتے ہیں۔ یوں تو تمام مخلوق خدا تعالیٰ کے دائمی مہمان ہیں مگر یہ دن ان کی ایک خصوصی مہمانی کا ہے جس کو رد کرنا بہت بڑا جرم ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

