علم دین کی برکات

علم دین کی برکات

علم کا لفظ حقیقی معنی میں قرآن وحدیث کے دینی علوم پر بولا جاتا ہے اسکے علاوہ جس قدر دنیاوی علوم ہیں وہ حقیقت میں علم نہیں بلکہ فنون ہیں حقیقی علم وہ ہے جو انسان کیلئے دنیا میں بھی اللہ کی معرفت کا ذریعہ بنے اور موت کے بعد بھی اس کیلئے ذخیرہ آخرت ہو اور میدان حشر میں بھی اس کیلئے نجات کا ذریعہ ہو اور جنت میں پہنچ کر بھی اس کیلئے اعزاز واکرام کا ذریعہ ہو ایسا علم صرف شریعت کا ہی علم ہے ورنہ دیگر جس قدر فنون ہیں ان کا فائدہ صرف دنیاوی زندگی تک محدود ہے مگر یہ کہ ان فنون کو خدمت دین کا ذریعہ بنا لیا جائے تو یہ بھی نفع سے خالی نہیںۃ اللہ تعالیٰ کی نظر میں شریعت کے علوم کس قدر باعث اکرام ہیں قرآن وحدیث اس کی فضیلت پر شاہد ہیں۔۔۔ بعض مرتبہ اللہ تعالیٰ لوگوں کی ہدایت کیلئے ایسے واقعات دکھا دیتے ہیں جن سے شرعی علوم کی فضیلت آشکارا ہوجاتی ہیں۔۔۔ ایسا ہی ایک ایمان افروز واقعہ ذیل میں دیا جاتا ہے جو علم دین کی فضیلت پر شاہد ہے۔
شیخ الاسلام علامہ شمس الحق صاحب افغانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیوبند کے مدرسہ دارالعلوم میں حدیث کا ایک طالب علم فوت ہوگیا۔۔۔ جو افغانستان کا رہنے والا تھا جنازہ پڑھ کر دفنایا گیا ۔۔۔اور اسکے ورثاء کو خط بھیجا ۔۔۔فاصلہ لمبا تھا خط چھ ماہ بعد اسکے گھر میں پہنچ گیا۔۔۔ اسکے عزیز آگئے۔۔۔ مہتمم صاحب قاری محمد طیب صاحب سے ملاقات ہوگئی تو وہ کہنے لگے کہ ہم میت کو نکال کر اپنے وطن افغانستان میں لے جانا چاہتے ہیں۔۔۔ مہتمم صاحب نے بہت سمجھایا مگر وہ بضد تھے۔۔۔ بات نہیں مان رہے تھے تو مہتمم صاحب نے انکو میرے پاس بھیجا میں نے بھی انہیں بہت سمجھایا وہ کہنے لگے یا تو ہم میت لے جائیں گے یا ہمارا سارا خاندان یہاں منتقل ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ اور کوئی صورت نہیں میں نے کہا جائو۔۔۔ خدا کے بندو !۔۔۔تم تو خدا تعالیٰ کاراز ظاہر کرو گے جب قبر کھودی گئی تو چھ ماہ بعد میت اپنے کفن سمیت صحیح سالم پڑی تھی اور اس سے بہت اعلیٰ خوشبو آرہی تھی۔۔۔ میت کی لاش صندوق میں رکھ دی گئی اور احتراماً ایک طالبعلم ان کے ساتھ بھیج دیا گیا۔۔۔ لا ہور کے راستے سے پشاور جانا تھا۔ پشاور کے ریلوے اسٹیشن پر ایکسائز اور پولیس والوں نے کہا کہ اس صندوق میں میت نہیں بلکہ کستوری (مشک) ہے جو سمگل ہورہی ہے جب صندوق کو پولیس والوں نے کھولا تو اس میں حدیث پاک کا طالب علم تھا اور اس سے خوشبو آرہی تھی۔
یہ حال تو حدیث کے طالب علم کا تھا اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھئے!۔۔۔ اسی دن پشاور کے ایک نواب کے بیٹے کی لاش انگلینڈ سے ائیر پورٹ پہنچی جو انگلینڈ میں انگریزی تعلیم حاصل کرنے گیا ہوا تھا اور فوت ہوئے اس کو تیسرا دن تھا مگر عفونت اور بدبو اتنی تھی کہ رشتے دار بھی چار پائی کے قریب نہیں آتے تھے نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگوں کو اجرت دیکر چارپائی لے جائی گئی تھی تاکہ اس کو دفنایا جائے۔۔۔ حضرت افغانی صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ لو گوں نے اس واقعے سے بہت بڑی عبرت حاصل کی تھی۔ (خطبات افغانی)
حدیث کے طالب علم کیلئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت کی دعا فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کو خوش و خرم رکھے جس نے میری حدیث سن لی اور یاد کرلی پھر دوسرے تک پہنچائی۔۔۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حدیث کا طالب علم بنائے اور حدیث پرعمل کی توفیق عطا فرمائیں۔

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more