عقل کے حدود
ملفوظاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانامحمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ*
ارشاد فرمایا کہ انسانی عقل بہت محدود چیز ہے اور مخلوق ہے۔ وہ خالق کے اسرار میں کیسے حکم کر سکتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ عقل نکمی چیز ہے اور سب اس کو چھوڑ کر بے عقل اور پاگل دیوانے بن جائیں۔ یہ تعلیم کسی نے نہیں دی بلکہ مطلب یہ ہے کہ احکامِ الہی کے اسرار دریافت کرنے میں عقل کافی نہیں ۔ جہاں تک اس کی رسائی ہے وہاں تک بڑے کام کی چیز ہے اس سے ضرور کام لینا چاہئے اور جہاں تک اس کی رسائی نہیں وہاں اس کے بھروسہ پر رہنا غلطی ہے۔ اس کی رسائی اور طاقت کی حد یہ ہے کہ احکام الٰہی سمجھ لے اور اس کی تعمیل کرے اور یہ اس کی طاقت سے باہر ہے کہ ان کی لم ( حقیقت، سبب) کو سمجھ لے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

