طریقت میں اصل چیز تعلیم ہے
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ بیعت کو نہ معلوم لوگ فرض و واجب کیوں سمجھتے ہیں ، اصل چیز تعلیم ہے مگر اس سے سب گھبراتے ہیں ۔ یہ سب طریق سے ناواقفیت کی دلیل ہے ، حتیٰ کہ اہلِ علم تک اس بلا میں مبتلا ہیں ۔ بیعت کے متعلق ایسا عقیدہ ہوگیا کہ غیر واجب کو واجب لوگ سمجھنے لگے تو یہ بدعت اور فسادِ عقیدہ نہیں اور کیا یہ قابلِ اصلاح نہیں؟ میں بعضے آنے والوں سے پوچھتا ہوں کہ بیعت ہونا چاہتے ہو یا تعلیم کا حاصل کرنا، کہتے ہیں کہ بیعت کر لیجئے ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ بیعت کو ضروری اور تعلیم کو جو کہ اصل ہے غیر ضروری سمجھتے ہیں ۔ علماء کو اس طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے تاکہ فسادِ عقیدہ جاتا رہے ۔ ہر چیز کو اس کی حد پر رکھنا یہی دین ہے اور یہی شریعت ِ مقدسہ کی تعلیم ہے، اس سے آگے افراط و تفریط ہے۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۱۲۸)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

