صبروتحمل سے متعلق سنتیں

صبروتحمل سے متعلق سنتیں

کسی نقصان پر اپنے دل میں کوئی منفی خیالات نہ پیدا ہونے دینا اور اس کے ثمرات کو قبول کرلینا، ان معاملات کی بنا پر خود کو کسی اور کو برا بھلا نہ کہنا صبر ہے۔ دوسری طرف کسی معاملے میں جلد بازی نہ کرنا بھی صبر کہلاتا ہے۔ غیر ضروری جلد بازی معاملات کو خراب کرنے کا باعث ہوتی ہے۔ اسی لیے تو کہا گیا ہے کہ تعجیل کا کام شیطان کا ہے۔ اپنے تمام معاملات میں صبر و تحمل سے کام لیں، یہ ایک فعال جذبہ ہے جس طرح انسانی ذات کے دو رُخ ہوتے ہیں۔ ایک جسمانی اور دوسرا نفسیاتی۔ اس طرح صبر کی بھی دو اقسام ہیں ایک جسمانی جیسے تکالیف کو برداشت کرنا، اسی طرح غیرضروری خواہشات سے خود کو روکنا بھی صبر ہے۔ صبر صرف مصائب کے لیے مخصوص نہیں ہے اس کی ضرورت تو ہروقت ہوتی ہے۔ صبر، ایمان، دانش، اُمید اور محبت کے عملی اظہار کا دوسرا نام ہے۔ معاملات کو صبر سے دیکھنے سے آپ ان کے بارے میں آگاہی حاصل کرتے، ان سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر کرو کفران نعمت نہ کرو۔‘‘ (البقرہ:۵۲)
فیاضی یہ نہیں کہ تم مجھے وہ شے دو جس کی مجھے تم سے زیادہ ضرورت ہو بلکہ فیاضی یہ ہے کہ تم مجھے وہ شے دو جس کی تمہیں مجھ سے زیادہ ضرورت ہو۔
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جن بھلائی اور نیکی کے کاموں یعنی اعمال خیر کا حکم دیا ہے، ان میں ایک نیک عمل برداشت اور تحمل ہے، برداشت اور تحمل کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں یا دین کی خاطر خواہ کتنی ہی مصیبتیں اور گھاٹیاں پیش آئیں، ان کو صبر اور حوصلے کے ساتھ برداشت کیا جائے، اللہ تعالیٰ پر پورا بھروسہ رکھا جائے اور کسی بھی حالت میں مایوس نہ ہوا جائے۔

غصہ کو پینا

دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر گھر کے کسی ملازم یا ملازمہ سے کسی دوست یار سے یا کسی مسلمان بھائی سے کوئی قصور ہو جائے جس کے سبب غصہ آجائے تو اس غصے کو پی لیا جائے یعنی اس پر قابو پاکر قصور وار کو معاف کردیا جائے۔ اسی طرح زبان یا ہاتھ سے برائی کرنے والے کی بدگوئی یا برائی کو بھی برداشت کرلیا جائے، اگرچہ اس سے بدلہ لینے کی طاقت اور وسائل بھی ہوں، اس طرزِ عمل کو بھی برداشت اور تحمل کہا جائے گا یا عفو و درگزر اور یہ صفت اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ سورہ آل عمران میں فرمایا گیا ہے: ’’والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس واللّٰہ یحب المحسنین‘‘ (سورۂ آل عمران، آیت:۱۳۴)
’’یعنی جو لوگ غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کردیتے ہیں ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔‘‘

اللہ کا ایک نام ’’الحلیم‘‘ بھی ہے

اللہ تعالیٰ کا اپنا ایک پاک نام بھی ’’الحلیم‘‘ ہے یعنی اللہ جل شانہ بہت حلم والا ہے، وہ گناہوں کو معاف کرنے میں بڑا حلیم ہے، گناہوں کی سزا جلد نہیں دیتا، گنہگاروں کا رزق بند نہیں کرتا، ان کی صحت و عافیت کو تباہ نہیں کرتا بلکہ ان کو اپنی اصلاح اور توبہ کی مہلت دیتا ہے، برداشت و تحمل اور عفو و درگزر بھی حلم ہی کی شاخیں ہیں جو مسلمان اللہ تعالیٰ کے ’’الحلیم‘‘ ہونے پر ایمان رکھتا ہے اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ حلم، تحمل اور برداشت کو اپنی زندگی کا اُصول اور اپنی عادت بنالے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کیلئے کبھی انتقام نہیں لیا

ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی چلتی پھرتی تفسیر تھے۔ آپ کے عمل اور قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ کے نازل کیے ہوئے احکام میں مطلق کوئی فرق نہ تھا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات اطہر کو مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ قرار دیا ہے۔ جیساکہ قرآن حکیم میں ارشاد ہوا ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حلم و تحمل اور آپ کی برداشت کی کوئی انتہا نہ تھی اس کا جو نمونہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کے سامنے پیش کیا ہے اگر سارے مسلمان اس کو مشعل راہ بنائیں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ باہمی نفرت اور جھگڑے فساد ہمیشہ کے لیے ختم نہ ہو جائیں اور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے نام لیوا ’’انّما المؤمنون اخوۃٌ‘‘ کی تصویر نہ بن جائیں۔ اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم برائی کے بدلے برائی نہ کرتے بلکہ معاف فرما دیتے اور درگزر کرتے تھے۔ (بحوالہ ابوداؤد، ترمذی)

انتقام پر قدرت کے باوجود صبر کرنا سنت ہے

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر ایک نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ کوئی سختی اور مصیبت ایسی نہ تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں اور منافقوں کے ہاتھوں نہ جھیلی ہو۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذاء رسانی میں کمینگی کی انتہا کردی۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا وطن اور گھر بار چھوڑنا پڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب کچھ بڑے صبر اور تحمل کے ساتھ برداشت کیا اور جب فتح مکہ کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پر غلبہ دے دیا اور غلبہ بھی ایسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اشارے پر وہ سب خاک و خون میں لوٹائے جاسکتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما کر سب کو معاف فرما دیا ’’میں تم سے وہی کہوں گا جو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا، آج تم پر کوئی الزام (ملامت) نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔‘‘۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، موسیٰ ابن عمران علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ اے میرے پروردگار! تیرے نزدیک سب سے عزیز آدمی کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا: وہ شخص جو انتقام پر قادر ہو اور معاف کردے۔ (بحوالہ مشکوٰۃ شریف)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (قبیلہ) عبدالقیس کے سردار شج سے فرمایا کہ تم میں دو خصلتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، ایک حلم اور دوسری آہستگی۔ (بحوالہ جامع ترمذی)

برائی کا بدلہ اچھائی سے دینا سنت ہے

ایک دفعہ ایک بدو آیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر مبارک اس زور سے کھینچی کہ اس کا کنارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک میں کھب گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت تکلیف ہوئی۔ پھر اس نے گستاخانہ بڑے تند لہجے میں کہا: ’’اے محمد! یہ میرے دو اونٹ ہیں ان پر لادنے کے لیے مجھے سامان دو، تیرے پاس جو مال ہے نہ تیرا ہے نہ تیرے باپ کا۔‘‘۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی نرمی سے فرمایا: ’’مال تو اللہ کا ہے میں اُس کا بندہ ہوں مگر جو سلوک تم نے میرے ساتھ کیا ہے کیا اس پر تم سزا سے نہیں ڈرتے؟‘‘ بدو نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، کیوں؟ وہ بولا: مجھے پورا یقین ہے کہ تم بدی کا بدلہ بدی سے نہیں دیتے۔ اس کا جواب سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے اور اس کے اونٹوں پر کھجوریں اور جَو لدوادیئے۔
اسی طرح کا دوسرا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں کچھ مال تقسیم کیا۔ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم پر اعتراض کیا اور گستاخانہ کہا، اے اللہ کے رسول! (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ سے ڈریں اور انصاف کریں۔ یہ بات سخت غصہ دلانے والی تھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے تحمل سے کام لیا اور صرف یہ فرما کر اس کو معاف کردیا۔
۔’’اگر اللہ کا رسول انصاف نہیں کرے گا تو اور کون کرے گا۔ اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحمت فرمائے، ان کی قوم نے اس سے بھی بڑھ کر اُن کو ستایا تھا اور انہوں نے صبر کیا۔‘‘۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صبر پر قبول اسلام کا واقعہ

ایک صحابی زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے سے پہلے یہودی تھے۔ اُسی زمانے میں ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کچھ قرض لیا اور ایک مقرر تاریخ تک اسے واپس کرنے کا وعدہ کیا لیکن زید نے مقررہ تاریخ سے پہلے ہی آکر قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ اُن کا رویہ سخت قابل اعتراض تھا کیونکہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر مبارک پکڑ کر کھینچی اور نہایت گستاخی سے کہا: ’’تم ٹال مٹول کرکے میری رقم مار لو گے۔‘‘ اس کے علاوہ بھی کچھ اشتعال انگیز باتیں کہیں۔ اتفاق سے اس وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی وہاں موجود تھے۔ ان کو زید کی گستاخانہ گفتگو سن کر غصہ آگیا، وہ تلوار کھینچ کر زید کی طرف بڑھے اور کڑک کر کہا: ’’او اللہ کے دشمن! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایسی بری باتیں کہتا ہے۔‘‘ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو روکا اور فرمایا: ’’اے عمر! تمہیں چاہیے تھا کہ مجھے قرضہ ادا کرنے کے لیے کہتے اور زید کو نرمی سے کام لینے کی تلقین کرتے۔‘‘۔
اس کے بعد فرمایا : ’’زید کا قرضہ میری طرف سے ابھی ادا کردو اور اس کو بیس صاع (ایک وزن ہوتا تھا ایک صاع ۲کلو ۱۷۶ گرام گیہوں کے وزن کے برابر) زیادہ دے دو۔‘‘۔
زید رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن اخلاق اور تحمل دیکھ کر اسی وقت مشرف بہ اسلام ہوگئے اور گڑگڑا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی چاہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلاتامل معاف فرمادیا۔

دوسرا واقعہ

حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ قبول اسلام سے پہلے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت دشمن تھے۔ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کے ارادے سے مدینہ منورہ آئے لیکن پکڑے گئے۔ جب اُن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ملامت کیے بغیر بالکل معاف فرما دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کریمانہ اخلاق کا عمیر رضی اللہ عنہ پر ایسا اثر ہوا کہ وہ حلقہ بگوش اسلام ہوگئے۔
اسی طرح کے بیسیوں واقعات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ اطہر میں ملتے ہیں۔ کسی کی برائی اور زیادتی کو برداشت کرنا اور برائی یا زیادتی کرنے والے کو معاف کردینا بڑا دل گردے کا کام ہے۔

معاف کرنے میں عزت ہے ذلت نہیں

ایسا کرتے ہوئے بعض اوقات اپنی ذِلت کا احساس ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ عفو و درگزر بہت بڑی نیکی ہے اور ایسا کرنے والے کی عزت کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کوئی شخص کسی کا قصور معاف کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھاتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر کوئی شخص واقعی مظلوم ہے اور وہ ناحق ظلم اور زیادتی کا شکار ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اسے مجبور اور پابند نہیں کیا کہ وہ لازماً عفو و درگزر سے کام لے، وہ بدلہ بھی لے سکتا ہے۔ جیساکہ سورۃ النحل میں ارشاد ہوا ہے: ’’وَاِنْ عاقبتُم فعاقبوا بمثلِ ماعو قبتُم بہٖ‘‘ (آیت:۱۲۶)
(اور اگر تم لوگ بدلہ لینے لگو تو بس اسی قدر لے لو جس قدر تم پر زیادتی کی گئی ہو)۔
یہاں بدلہ لینے کی اجازت کے ساتھ یہ پابندی عائد کردی گئی ہے کہ بدلے کی مقدار اسی قدر ہو جس قدر زیادتی کی گئی ہو۔ اکثر حالات میں بدلہ لیتے وقت کسی معین حد پر رہنا ممکن نہیں ہوتا اور حد سے بڑھ کر بدلہ لینے والا خود ظالم بن جاتا ہے۔ اسی لیے بدلہ لینے کی اجازت کیساتھ یہ بھی فرمایا گیا ہے:
۔’’وَلئن صبرتم لھو خیر للصّبرین‘‘ (سورۃ النحل:۱۲۶)
(لیکن اگر تم صبر کرو تو یہ یقینا صبر کرنے والوں ہی کے حق میں بہتر ہے )۔

آپ دوسروں کی خطائیں معاف کریں اللہ آپ کو معاف کرے گا

گویا بدلہ لینے کی قدرت حاصل ہونے پر عفوودرگزر سے کام لینا اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا باعث بنتا ہے۔ اس خوشنودی کی صورت کیا ہوگی۔ سورۃ النساء میں اس کو یوں بیان کیا گیا ہے: ’’اِن تُبدوا خیرًا اَو تُخفوہ او تعفُوا عن سوئٍ فانِ اللّٰہ کان عفواً قدیرًا‘‘ (آیت:۱۴۹)
’’یعنی تم علانیہ نیکی کرو یا چھپا کر کرو یا دوسرے کی برائی معاف کرو، بے شک اللہ بھی بے حد معاف کرنے والا ہے، وہ قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘

مطلب یہ کہ تم کسی کی برائی سے درگزر کرو گے اور اسے معاف کر دو گے تو اللہ کی صفت بھی یہی ہے کہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے، تمہارے لیے بھی معافی کا دروازہ کھول دے گا (یعنی تمہارے گناہوں سے بھی درگزر فرمائے گا) کیونکہ معاف کرنے کا اجر اللہ نے اپنے ذمے لے رکھا ہے۔ جیساکہ سورۃ الشوریٰ میں ارشاد ہے:’’وَجَزآئُ سیّئۃٍ سیّئۃٌ مّثلُھا۔ فمن عفٰی وأصفح فاجرہٗ علی اللّٰہ انہ لا یحبّ الظلمین‘‘ (آیت نمبر:۴۰)
۔’’برائی کا بدلہ ویسے ہی برائی ہے پھر جو کوئی معاف کردے اور اصلاح (صلح) کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ بے شک اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘۔
سورۃ النور میں ارشاد ہوا ہے: ’’ولیعفوا ولیصفحوأ الا تحبّون اَنْ یغفر اللّٰہ لکم ط وَاللّٰہ غفورٌ رّحیم‘‘ … ’’تمہیں چاہیے کہ (قصور وار کو) معاف کردو اور درگزر کیا کرو تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں (تمہارے قصور) معاف کرے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (اللہ تعالیٰ کی صفت یہ ہے کہ وہ غفور اور رحیم ہے)۔‘‘۔
اس آیت مبارکہ میں واضح کردیا گیا ہے کہ جو لوگ دوسروں کے قصور اور زیادتی معاف کردیتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے قصور (گناہ) معاف کردیتا ہے۔ گویا قصور کردینے والے کو معاف کردینا اور قدرت ہونے کے باوجود اس سے انتقام نہ لینا ایک ’’اچھا انتقام‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہایت پسندیدہ عمل ہے۔ ’’اچھا انتقام‘‘ ان معنوں میں کہ جس شخص کے ظلم اور زیادتی کو نظرانداز کرکے اس کو معاف کردیا جائے گا اس کا ضمیر اس کو ملامت کرے گا ، وہ اپنے کیے پر نادم اور پشیمان ہوگا اور معاف کرنے والے کا احسان مند ہوکر اس کا دوست اور خیرخواہ بن جائے گا۔
ایک مؤمن اور داعی حق کی یہی شان ہے کہ وہ جاہلوں اور ظالموں کی بدزبانی اور زیادتیوں کو صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کرتا ہے، ان سے اُلجھتا نہیں اور اللہ کے بھروسے پر امر بالمعروف کا فریضہ ادا کرتا رہتا ہے۔ سورۃ الاعراف میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔
’’خذِ العفوَ وَاْمُر بالعرُوفِ و أعرِض عنِ الجٰھلینَ‘‘
۔’’یعنی (اے نبی) عفوو درگزر کا طریقہ اختیار کرو ، نیکی کی تلقین کیے جاؤ اور جاہلوں کی نادانی کی باتوں سے چشم پوشی کرو (ان کی پروا نہ کرو یا ان سے نہ اُلجھو)۔‘‘۔
چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکی زندگی کے پُرآشوب دور میں ظالم کافروں کے مقابلے میں یہی طرزِ عمل اختیار فرمایا اور بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر عفوو درگزر کرنے والا کوئی نہ تھا۔

قرآن میں صبر و تحمل کی تلقین

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بہت سی آیات میں صبر کا حکم دیا ہے۔ ’’واستعینوا بالصبر والصلٰوۃ وانھا لکبیرۃ الاعلی الخٰشعین‘‘ (سورۃ البقرہ:۴۵) …’’اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور وہ بے شک گراں ہے مگر خشوع رکھنے والوں پر نہیں۔‘‘۔
۔’’یا یھا الذین اٰمنوا استعینوا بالصبر والصلٰوۃ ان اللّٰہ مع الصابرین‘‘ (سورۃ البقرہ:۱۵۳)
’’اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد چاہو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘
۔’’لتبلون فی اموالکم وانفسکم والتسمعن من الذین اوتوا الکتب من قبلکم ومن الذین اشرکوا اذی کثیرا وان تصبروا وتتقوا فان ذٰلک من عزم الامور‘‘ (سورۃ آل عمران:۱۸۶)
۔’’یقینا تم اپنے مال اور جان سے آزمائے جاؤ گے اور یقینا تم بہت سی دل آزاری کی باتیں ان سے بھی سنو گے جنہیں تم سے پہلے کتاب مل چکی ہے اور ان سے بھی جو مشرک ہیں اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یہ تاکیدی احکام میں سے ہے۔‘‘۔

امراض و پریشانیوں پر صبر سے گناہوں کا معاف ہونا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سکھاتے تھے کہ ان پر جو امراض اور مصائب آتے ہیں سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہیں، ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرماتا ہے، گناہوں کو مٹا کر ان کی جگہ نیکیاں لکھتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تعلیم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں زندگی کی مشکلات میں صبر کی عادت کو قوت پہنچی اور وہ لوگ خوش دلی کے ساتھ اللہ کا فیصلہ سمجھ کر مصائب جھیل لیتے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ان دونوں حضرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’مؤمن کو اگر کوئی بیماری، تکان ، لاغری، غم یا فکر لاحق ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنادیتے ہیں۔‘‘ (بخاری، مسلم، ترمذی)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو دُنیا ہی میں اسے سزا دے دیتے ہیں اور جب کسی بندے کے بارے میں شرکا ارادہ فرماتے ہیں تو دُنیا میں گناہ کی وجہ سے اس کی پکڑ نہیں کرتے، آخرت میں اسے گناہوں کی سزا دیتے ہیں۔‘‘(ترمذی شریف)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دوسری روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جتنی بڑی آزمائش ہوگی اتنا ہی عظیم ثواب ہوگا۔ بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو اسے آزمائش میں ڈالتا ہے جو اس پر راضی رہا اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا ہے اور جو اس پر ناراض رہا اس پر اللہ کی ناراضی ہے۔ ‘‘ (ترمذی، شیبانی، ج:۳، ص:۳۴۴)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’مؤمن مرد اور عورت پر اس کی ذات، اولاد اور مال کے بارے میں بلائیں آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملتا ہے کہ اس کے ذمہ کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔‘‘ (مؤطا امام مالک، ترمذی)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میری عزت اور جلال کی قسم میں جس شخص کی مغفرت کرنا چاہتا ہوں اسے دُنیا سے اس وقت تک نہیں اُٹھاتا جب تک اس کا ہر گناہ جسم میں بیماری دے کر یا رزق میں تنگی دے کرکے بے باق نہیں کردیتا۔‘‘۔
اس طرح کی حدیثیں مسلمانوں کو زمانہ کی مشکلات و مصائب پر صبر کرنے اور انہیں اللہ کا فیصلہ سمجھ کر خوش دلی کے ساتھ قبول کرنے کی تعلیم دیتی ہیں، مؤمن کو اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ ان مصائب اور بلاؤں میں اس کے لیے بہت خیر مضمر ہے، یہ مصائب اس کے گناہوں کو مٹاتے ہیں اور نیکیوں کو بڑھاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔
۔’’مؤمن کا معاملہ بھی عجیب ہے ، ہر معاملہ میں اس کے لیے خیر ہے، مؤمن کے سوا ایسا کسی کے لیے نہیں ہے، اگر اسے کوئی مسرت پہنچتی تو اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا، یہ شکر ادا کرنا اس لیے خیر ہوا اور اگر اسے کوئی مصیبت پہنچی تو اس نے صبر کیا، یہ صبر کرنا اس کے لیے بہتر ہوا۔ (مسلم، باب الزہد ، مسند احمد)

سنت والی زندگی اپنانے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر مطلوبہ کیٹگری میں دیکھئے ۔ اور مختلف اسلامی مواد سے باخبر رہنے کے لئے ویب سائٹ کا آفیشل واٹس ایپ چینل بھی فالو کریں ۔ جس کا لنک یہ ہے :۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M

Most Viewed Posts

Latest Posts

مختلف سنتیں

مختلف سنتیں سنت-۱ :بیمار کی دوا دارو کرنا (ترمذی)سنت- ۲:مضرات سے پرہیز کرنا (ترمذی)سنت- ۳:بیمار کو کھانے پینے پر زیادہ زبردستی مت کرو (مشکوٰۃ)سنت- ۴:خلاف شرع تعویذ‘ گنڈے‘ ٹونے ٹوٹکے مت کرو (مشکوٰۃ) بچہ پیدا ہونے کے وقت سنت-۱: جب بچہ پیدا ہو تو اس کے دائیں کان میں اذان...

read more

حقوق العباد کے متعلق سنتیں

حقوق العباد کے متعلق ہدایات اور سنتیں اولاد کے حقوق حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ہیں کہ: ٭ مسلمانو! خدا چاہتا ہے کہ تم اپنی اولاد کے ساتھ برتائو کرنے میں انصاف کو ہاتھ سے نہ جانے دو۔۔۔۔ ٭ جو مسلمان اپنی لڑکی کی عمدہ تربیت کرے اور اس کو عمدہ تعلیم دے اور...

read more

عادات برگزیدہ خوشبو کے بارے میں

عادات برگزیدہ خوشبو کے بارے میں آپ خوشبو کی چیز اور خوشبو کو بہت پسند فرماتے تھے اور کثرت سے اس کا استعمال فرماتے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتے تھے۔۔۔۔ (نشرالطیب)آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخر شب میں بھی خوشبو لگایا کرتے تھے۔۔۔۔ سونے سے بیدار ہوتے تو قضائے حاجت سے...

read more