شیخ کامل کی صفات
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
فرمایا کہ میں شیوخ کو مخاطب کرتا ہوں، خواہ وہ جو یہاں موجود ہوں یا وہ جو موجود نہ ہوں ۔ وہ پیغام یہ ہے کہ ہر شخص کو اس طرح رہنا چاہئے کہ نہ تو یہ ہو کہ کسی بات کا وہ اثر ہی نہ لیں اور کوئی بات ان کو نا گوار نہ ہو اور نہ یہ ہو کہ خواہ کوئی شخص کیسی ہی معافی چاہے مگر یہ بھی معاف ہی نہ کریں۔ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ جس شخص کو غصہ کی بات پر غصہ نہ آئے وہ آدمی نہیں بلکہ گدھا ہے اور جس شخص سے معافی چاہی جائے اور وہ پھر بھی معاف نہ کرے تو وہ شیطان ہے۔ شیخ اکبر یعنی حضرت محی الدین ابن عربی رحمہ اللہ کا ایک رسالہ میں نے دیکھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بڑے مدبر ہیں۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ تربیت باطن اور اصلاح کے لئے یہ ضروری ہے کہ شیخ کے اندر یہ تین باتیں موجود ہوں ۔ دین تو انبیاء جیسا ہو شیخ کا ۔ اور سیاست ملوک ( بادشاہوں ) جیسی ہو اور تدبیر اطباء کی سی ہو۔ یہ عبارت گویا اس سارے رسالہ کی روح ہے۔ میں نے اس عبارت کو رسالہ کے اندر جلی قلم سے تو چھپوایا ہے۔ ایک صاحب نے دریافت کیا کہ شیخ اکبر نے جو یہ لکھا ہے کہ دین انبیاء کا سا ہو تو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ اس لئے کہ امتی کے اندر انبیاء کا سا دین ہونا تو دشوار ہے۔ فرمایا کہ مقصود یہ ہے کہ اس کے اندر خلوص ہو دین کا۔ جو کام کرے خلوص سے کرے کیونکہ انبیاء علیہم السلام کی بھی شان یہی تھی کہ وہ جو دین کی خدمت کرتے ہہ محض اللہ کی رضا کے واسطے کرتے تھے، دنیا کا کوئی شائبہ نہ ہوتا تھا۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

