شیخ کامل کی تعلیم میں خود رائی سخت مضر ہے
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ اس طریقِ سلوک میں طالب کو چاہیے کہ جس سے وہ اپنی اصلاحِ باطن کا تعلق قائم کرنا چاہے، اس تعلق سے قبل یہ دیکھ لے کہ اس شیخ کے اندر شرائط مشیخت ہیں یا نہیں ۔ جب اس کی طرف سے اطمینان ہوجائے اور اس شیخ سے اپنی اصلاحِ نفس کا تعلق قائم کر لیا جاوے تو پھر اس کی تعلیم میں خودرائی کو ہرگز دخل نہ دے بلکہ اس پر کامل اعتماد کرے اور جو کچھ وہ تعلیم کرے بلا چوں و چرا اس کا کامل اتباع کرے ، کامیابی اسی میں ہے ورنہ اگر اس نے اپنے شیخ پر اعتماد نہ کیا اور اس تعلیم کی قدر نہ کی تو نتیجہ اس کا سوائے محرومی اور پریشانی کے اور کچھ نہیں۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۳۲۰)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

