شادی کو سادی بناؤ۔۔۔۔! (153)۔
وطن عزیز پاکستان میں شادی کا معاملہ دن بدن پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے، خاص طور پر غریب والدین کے لئے جنہیں اپنی بیٹی کے نکاح کی ذمہ داری کا بوجھ اُٹھانا ہوتا ہے۔ ایسے غریب لوگوں کے لئے شادی جیسے مقدس فریضے کو اس قدر پیچیدہ بنا دیا گیا ہے کہ انکی زندگی بھر کی جمع پونجی بھی اس کے لئے ناکافی ہوتی ہے۔ ایک باپ کے لئے اپنی بیٹی کی شادی سرانجام دینا اب محض ایک دینی فریضہ نہیں رہا بلکہ ایک بڑی سماجی اور مالی ذمہ داری بن چکا ہے، جو اکثر والدین کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔
دیکھئے ! ایک غریب باپ ہے اور اپنی بیٹی کو پڑھا لکھا رہا ہے تاکہ اُسکی شادی اعلیٰ خاندان میں کروا سکے اور پھر اِسی ارادے کو لے کروہ جہیز بھی اکٹھا کررہا ہے ۔ گھر میں فاقے ہورہے ہیں ۔ کھانے کو روٹی نہیں اور قرض اٹھا کر بیٹی کو پڑھایا جارہا ہے ۔
پھر جب وہ جوان ہونے لگتی ہے تو باقاعدہ طور پر جہیز اکٹھا کرنے کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں ۔ نت نئے فیشن والی چیزیں اکٹھی ہورہی ہیں ۔ کوئی بھی برتن لیتے ہیں تو پورے خاندان کو پتہ چلتا ہے کہ فلانی کے لئے شیشے کے برتن آچکے ہیں ۔ کچھ دن پیسے جمع کرنے کے بعد پھر اُسکے لئے بسترے اکٹھے ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔ ضرورت سے زائد برتن، بسترے اور کپڑے مسلسل جمع ہوتے رہتے ہیں ۔
اسکے بعد جیسے جیسے شادی قریب آتی جارہی ہے تو نت نئی مشینیں، فیشن والے کپڑے، ڈیزائن والے فرنیچر اور طرح طرح کے لوازمات تیار ہورہے ہیں ۔
دوستو! سچی بات یہ ہے کہ یہ سب چیزیں شادی کے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔
البتہ اگر کوئی دولتمند شخص ہے جسکو اللہ تعالیٰ نے اتنی وسعت دی ہو کہ ایک کروڑ روپیہ اپنی بیٹی کی شادی پر خرچ کرے تو بھی فرق نہ پڑے تو اُسکے لئے تو یہ چیزیں معنی رکھتی ہیں بلکہ ایک لحاظ سے شرعا ضروری بھی ہیں کہ نکاح جیسی عبادت کو شان و شوکت سے منعقد کیا جائے۔
مگر ایک غریب شخص جس کی تنخواہ میں بمشکل گھر کا کھانا پورا ہوتا ہے ۔ مگر وہ رشتہ داروں سے ، بینکوں سے اور دیگر ذرائع سے قرضے لے کر اپنی بیٹی کی شادی کو دھوم دھام سے کرنا چاہتا ہے۔
تو یہ دھوم دھام کا شوق اور یہ رواج کدھر سے آیا ہے ؟نکاح جیسے مقدس رشتے کو اتنا مشکل بنانے کی کیا مصیبت آن پڑی ہے ؟
کون سی شریعت میں یہ لکھا ہے کہ بیٹی کا نکاح کرنے کے لئے اپنی حیثیت سے دس ہزار درجہ زیادہ خرچ کرو ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ غریب کی بیٹی کی شادی میں اُسکے والد کو چھوڑ کر سبھی خوش ہوتے ہیں ۔ والد کو رشتہ داروں کی فکر نہیں ہوتی، بیٹی کی بھی کوئی فکر نہیں ہوتی اور کسی بھی چیز کی فکر نہیں ہوتی بس صرف یہی ایک ٹینشن ہوتی ہے کہ شادی کے بعد اتنا سارا قرضہ کیسے واپسکرونگا؟ خدارا ! اس رواج کو بدلیں ۔
شادی کو سادی بنائیں ۔ شرعی امور کو ملحوظ خاطر رکھیں اور اسکے علاوہ کسی بھی خرچہ کا بوجھ اپنے اوپر اٹھایا تو ثواب کی بجائے یقیناً گناہ ہوگا ۔۔۔!
نوٹ : یہ ’’آج کی بات‘‘ ایک بہت ہی مفید سلسلہ ہے جس میں حذیفہ محمد اسحاق کی طرف سے مشاھدات،خیالات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر ہوتی ہے ۔ یہ تحریر ہماری ویب سائٹ
Visit https://readngrow.online/ for FREE Knowledge and Islamic spiritual development.
پر مستقل شائع ہوتی ہے ۔ ہر تحریر کے عنوان کے آگے ایک نمبر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس اسکی قسط کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کون سی قسط ہے ۔ پچھلی قسطیں بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔ اگر کوئی پیغام یا نصیحت یا تحریر آپکو پسند آتی ہے تو شئیر ضرور کریں ۔ شکریہ ۔
مزید اپڈیٹس کے لئے ہمارے واٹس ایپ چینل کو ضرور فالو کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M

