سُستی کا مقابلہ ہمت سے کرے (ملفوظات شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی)۔
ارشاد فرمایا کہ اپنے حضرت ڈاکٹرعبدالحئی صاحب عارفی قدس اللہ سرہ کی ایک بات یاد آگئی، وہ یہ کہ ایک مرتبہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جب کسی معمول کے پورا کرنے میں سستی ہو رہی ہو تو وہی موقع انسان کے امتحان کا ہے ۔اب ایک صورت تو یہ ہے کہ اس سستی کے آگے ہتھیار ڈال دے اور نفس کی بات مان لے تو پھر اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آج ایک معمول میں ہتھیار ڈالے ، کل کو نفس دوسرے معمول میں ہتھیار ڈلوائے گااور پھر آہستہ آہستہ طبیعت اس سستی کے تابع اور اس کی عادی ہو جائے گی۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ انسان اس سستی کا ہمت سے مقابلہ کر کے اس معمول کو کر گزرے، محنت اور مشقت کر کے زبردستی اس کام کو کرے، تو پھر اس محنت اور مشقت اور مقابلہ کرنے کی برکت سے اللہ تعالیٰ آئندہ بھی معمولات کے پورا کرنےکی توفیق عطا فرمائیں گے۔
۔(سُستی کا علاج، اصلاحی خطبات، جلد پنجم، صفحہ ۱۰۵)۔
یہ ملفوظات حضرت ڈاکٹر فیصل صاحب نے انتخاب فرمائے ہیں ۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے ملفوظات اور تعلیمات پڑھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں:۔
https://readngrow.online/category/mufti-taqi-usmani-words/

