سفر حج کی تکلیفیں خوشی خوشی برداشت کرنی چاہئیں
ارشاد فرمایا کہ سفر حج میں اگر کچھ کلفت بھی آئے تو(یہ سوچو کہ) اس میں ثواب کس قدر ہے ۔ جب یہاں دنیا کے واسطے سفر کی تکلیفیں برداشت کی جاتی ہیں تو خدا اور رسول کی رضا کے لیے اگر ذرا سی تکلیف پیش بھی آجائے تو کیا مضائقہ ہے۔
نیز فرمایا کہ وہاں کے ثواب اور آخرت کے منافع پر نظر کرواور یہ سمجھ لو کہ جنت میں جو درجات حج کی وجہ سے نصیب ہوںگے ان کے سامنے یہ تکلیفیں کیا ہیں، ان جیسی ہزار تکلیفیں ہوں تو کچھ نہیں اور حج میں آخرت کے ثواب کے علاوہ دنیا کا بھی نفع ہے چنانچہ مشاہدہ ہے کہ حج کے بعد ضرور رزق میں فراخی ہوجاتی ہے ۔ پھر وسعت اور فراخی ٔ رزق کے لئے لوگ کیسی کیسی مشقتیں برداشت کرتے ہیں ۔ اگر ذرا سی وہاں بھی تکلیف پیش آگئی تو اس کی وجہ سے پریشان ہونا اور دوسروں کو پریشان کرنا کون سی عقل کی بات ہے۔ (امدادالحجاج ،صفحہ ۸۵)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات جو حج سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

