روزہ میں صرف کھانا پینا چھوڑ دینے سے تقویٰ حاصل نہیں ہوتا (ملفوظات شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی)۔
ارشاد فرمایا کہ روزہ درحقیقت مسلمان کے دل میں یہی احساس پیدا کرتا ہے کہ روزہ رکھنے کے بعد خواہ بھوک پیاس لگ رہی ہو لیکن انسان کچھ نہیں کھاتا پیتا حالانکہ اگر اس نے تنہائی میں جاکر کچھ کھا پی بھی لیا تو کسی کو کیا پتہ چلے گا لیکن اس کے دل میں یہ احساس پیدا ہوگیا ہے کہ اگر میں تنہائی میں جاکر کچھ کھا پی بھی لوں اور کوئی مجھے دیکھ بھی نہ رہا ہوتو اللہ تعالیٰ ضرور دیکھ رہا ہے ، اس لئے خواہ بھوک پیاس سے کتنا ہی بیتاب ہوجائے لیکن اللہ کے خوف کی وجہ سے کچھ کھانا پینا گوارا نہیں ، اسی کا نام تقویٰ ہے۔
لیکن روزہ سے تقویٰ اس وقت پیدا ہوگا جب اللہ تعالیٰ کی خاطر کھانا پینا چھوڑنے کے ساتھ ساتھ ان کاموں کو بھی چھوڑ دیا جائے جو اللہ تعالیٰ نے حرام نے قرار دیئے ہیں کیونکہ اگر کھانا پینا تو چھوڑ دیا لیکن حرام کام نہ چھوڑے تو تقویٰ حاصل نہ ہوگا۔ مثلاََ کھانا پینا تو اللہ نے حلال کیا تھا لیکن روزہ کی وجہ سے چھوڑ رکھا ہے اور جھوٹ بولنا جو روزہ سے پہلے بھی حرام تھاوہ نہیں چھوڑا، غیبت جو پہلے ہی سے حرام تھی وہ نہیں چھوڑی، رشوت لینا حرام تھا وہ نہ چھوڑا تو یہ کیسا روزہ ہے کہ جس کو رکھ کر اسے رشوت اور حرام مال سے افطار کیا جائے۔
۔(خطباتِ رمضان، صفحہ ۹۷)۔
یہ ملفوظات حضرت ڈاکٹر فیصل صاحب نے انتخاب فرمائے ہیں ۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے ملفوظات اور تعلیمات پڑھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں:۔
https://readngrow.online/category/mufti-taqi-usmani-words/

