راستے اورسڑکیں….ایک لمحہ کے لئے بھی بند نہ کریں (148)۔
چودہ اگست 2024 والے دن میں نے دیکھا کہ ایک ہسپتال کے بالکل سامنے سڑک کو بند کررکھا تھا اور پی پی پاں پاں والے زور و شور سے جشن منا رہے تھے ۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ اس طرح جشن منانا کوئی عقلمندی نہیں بلکہ بے شعوری اور جہالت کی علامت ہے جس میں روڈ بند کرکے اپنے ہم وطن ساتھیوں کو تکلیف دی جائے ۔
اسی دوران میں نے دیکھا کہ ایک چھوٹی سی کار میں کوئی شخص رونی صورت بنا کر مسلسل ہارن بجا رہا تھا۔ میرا دل پسیج گیا ۔ غور کرنے پر اندازہ ہوا کہ وہ سامنے ہسپتال کے پہنچ کر بے بسی میں ہارن بجا رہا تھا اور اُسکی گاڑی میں مریض تھا جسکی حالت بہت ہی ہنگامی تھی ۔ اب وہ شخص مسلسل ہارن بجا رہا تھا اور اُسکے جذبات بہت ہی تکلیف دہ تھے کیونکہ وہ نجانے کتنی دور سے ہنگامی صورتحال کے مریض کو گاڑی بھگا کر لا رہا تھا اور اب ہسپتال کے دروازے کے سامنے وہ بے بس کھڑا ہوا تھا ۔ اتنا ہجوم تھا کہ پیدل، بھی وہ اٹھا کر بھاگتا تو خطرہ بڑھ جاتا ۔
بحمداللہ تعالیٰ کچھ لمحات کے بعد لوگ اُسکی گاڑی کے آگے آئے اور انہوں نے راستہ بنایا اور جیسے کیسے یہ بیچارہ شخص ہسپتال کے دروازے تک پہنچا ۔
مگردوستو! یہ کیسا طریقہ ہے جشن منانے کا ؟ یہ کیسا طریقہ ہے ریلیاں نکالنے کا اور یہ کیسا طریقہ ہے دھرنے دینے کا ؟ جب کبھی اس ملک میں روڈ بند ہوتے ہیں تو ضرور اس بندش کی وجہ سے کئی جانیں ضائع ہوتی ہیں ۔ کئی لوگ ہسپتال پہنچنے سے رک جاتے ہیں اور کئی لوگ بری طرح پھنس جاتے ہیں ۔ پورے شہر کا پہیہ جام ہوجاتا ہے ۔
یاد رکھو ! سڑکیں گاڑیوں کی روانی سے رفتار برقرار رکھنے کیلئے بنائی جاتی ہیں ۔ اور سینکڑوں راہگیر ان پر سے گزرتے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ کون سا شخص کس حال میں ہے ۔
اسلئے ایک منٹ کے لئے بھی کسی روڈ کو بند کرنا اخلاقی، شرعی اور قانونی طور پر گناہ و جرم ہے ۔
آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ جہاد کی اسلام میں کتنی فضیلتیں ہیں اور پھر وہ جہاد جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی شامل ہوئے ہوں ۔ مگر ایک حدیث میں حضرت انس جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایکغزوہ میں شرکت کی ۔ جنگ کے دوران لوگوں نے خیمہ اس طرز پر لگادئیے کہ راستہ بند ہورہا تھا اور آنے جانے والوں کو تنگی ہورہی تھی ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کروائی کہ جو شخص بھی راستے کو بند کرے گا اُسکو جہاد کا ثواب نہیں ملے گا ۔
تو دوستو! خود اندازہ لگائیں کہ آج کل کس طرح چھوٹی چھوٹی بات کے لئے راستے بند کرکے ہم لوگ گناہ اپنے سر پر لے لیتے ہیں ۔ اس نصیحت کو یاد رکھیں کہ سڑک کو کبھی بھی مصروف نہ کریں حتی الامکان ہجوم کو ختم کرنے والے بنیں اور راہگیروں کو ایک لمحہ کی تکلیف دینے سے بھی خود کو بچائیں ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائیں ۔
نوٹ : یہ ’’آج کی بات‘‘ ایک بہت ہی مفید سلسلہ ہے جس میں حذیفہ محمد اسحاق کی طرف سے مشاھدات،خیالات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر ہوتی ہے ۔ یہ تحریر ہماری ویب سائٹ
Visit https://readngrow.online/ for FREE Knowledge and Islamic spiritual development.
پر مستقل شائع ہوتی ہے ۔ ہر تحریر کے عنوان کے آگے ایک نمبر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس اسکی قسط کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کون سی قسط ہے ۔ پچھلی قسطیں بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔ اگر کوئی پیغام یا نصیحت یا تحریر آپکو پسند آتی ہے تو شئیر ضرور کریں ۔ شکریہ ۔
مزید اپڈیٹس کے لئے ہمارے واٹس ایپ چینل کو ضرور فالو کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M

