راحت کی دو قسمیں
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ *یا بلال ، فارحنا بالصلاة* یعنی”اے بلال ! ہم کو نماز سے آرام پہنچاؤ” میں راحت کی دو قسمیں ہیں۔ ایک راحت فی الصلوۃ، دوسری راحت بعد فراغ الصلواۃ۔ پھر اس میں دو وجوہ ہیں، ایک راحت اس لیے کہ حق تعالیٰ کا فرض ادا ہوا، دوسرا اس لیے کہ پاپ گرنا (یعنی جان چھڑانا)۔ پہلا درجہ خواص کا ہے اور دوسرا درجہ عوام کا۔راحت فی الصلوۃ کا عنوان میں نے تجویز کیا ہے “راحت لقاء حق” (یعنی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی راحت) اور راحت بعد فراغ الصلوة کا عنوان ہے راحتِ حصولِ رضائے حق (یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی راحت)۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

