دین پر اعتراض کیوں؟
ایک مرتبہ مانچسڑ میں بیان کیا اس عاجز نے۔ تو پردے کے پیچھے خواتین نے کچھ مسائل پوچھنے تھے۔ وہ پوچھنے لگیں تو کوئی یونیورسٹی کی لڑکی بھی وہاں آئی ہوئی تھی وہ اللہ کی بندی کچھ آزاد ذہن کی تھی۔ اس نے کہا جی مجھے ایک بات پوچھنی ہے۔ میں نے کہا: بہت اچھا، کہنے لگی: جی مجھے آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ مرد تو چار شادیاں کر سکتا ہے عورت چار شادیاں کیوں نہیں کر سکتی؟
اب اسے میں نے سمجھانے کی کوشش کی، ایک دلیل دی، دوسری دلیل دی، تیسری دی، مگر وہ ڈٹی ہوئی ہے اپنی بات پرکہ جی نہیں یہ باتیں اپنی جگہ پر ٹھیک ہیں لیکن عورت چار شادیاں کیوں نہیں کر سکتی؟
اب جب میں نے دیکھا نا کہ سیدھی انگلی سے تو گھی نہیں نکل رہا، یہ ٹیڑھی انگلی سے نکلے گا:
جیسی عقل ہو اس سے پھر ویسی ہی بات کرو۔
تو اب میں نے اسے کہا کہ اچھا، بالفرض آپ کے چار شوہر ہوں، آپ کی چار شادیاں ہوں تو سمجھ لو کہ چار تو آپ کی ساسیں ہوںگی اور اگر ہر ساس کی پانچ بیٹیاں، تو بیس نندیں ہوں گی، تو چار خاوند، چار ساسیں، بیس نندیں، گزارا کرلو گی؟ کہنے لگی نہیں نہیں نہیں، میری تو بس چار خاوندوں کی بات تھی، ساسیں اور نندیں تو نہیں ہونی چاہئیں۔ اب ذرا عقل ٹھکانے آ گئی پھر تھوڑی دیر بعد کہنے لگی نہیں نہیں۔ میں تو ویسے ہی پوچھ رہی تھی ، شادی تو عورت کی ایک ہی ٹھیک ہوتی ہے۔(ج 30ص206)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

