دعوت حلال مال سے کرو اگرچہ دال روٹی ہو
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ دعوت میں اس کی رعایت کرو کہ حلال کھانا کھلاؤ، خود حرام کھاؤ تو کھاؤ دوسرے کو تو نہ کھلاؤ۔ دیکھو حرام کھانے سے دل میں ظلمت ہوتی ہے اور اہل اللہ کو پتہ بھی چل جاتا ہے اور ان کو سخت تکلیف ہوتی ہے حتی کہ کبھی قے ہوجاتی ہے جیسے مولانا مظفر حسین صاحب کاندھلوی رحمتہ اللہ علیہ کی مشہور کرامت تھی کہ مولانا کو مشتبہ کھانا کبھی ہضم نہیں ہوا، اسی وقت نکل جاتا تھا، ورنہ ظلمت اور پریشانی دل کو تو ضرور ہوتی ہے۔ کھانا تو ایسا ہونا چاہیے کہ جس میں (حرام کا) شبہ نہ ہو کیونکہ دعوت واجب تو نہیں ہے، مستحب ہے اور حرام کھانا کھلانا حرام ہے تو جس کے پاس حلال کھانا نہ ہو اس کو کسی کی دعوت نہ کرنا چاہیے۔ اور اس کی ضرورت ہی کیا ہے کہ کھانا مرغن (بریانی قورمہ وغیرہ) ہی کھلاؤ، سادہ کھلاؤ مگر حلال ہو، (اور اگر حرام مال ہو تو) کسی مسلمان بھائی کو تو مت کھلاؤ کوئی خود گُو کھائے تو دوسروں کو تو نہ کھلائے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

