خوف خداوندی
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ چند صحابہ کی جماعت کے ساتھ بڑے ضروری کام سے تشریف لے جا رہے تھے ۔۔۔۔ راستہ میں ایک بڑھیا ملی جن کی کمر مبارک بھی جھک گئی تھی اور لاٹھی کے سہارے سے آہستہ آہستہ چل رہی تھیں ۔۔۔۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: عمر ٹھہر جا! کہاں لپکا جا رہا ہے؟
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ٹھہر گئے اور بڑھیا لاٹھی کے سہارے سیدھی کھڑی ہو گئیں ۔۔۔۔ اور فرمایا! اے عمر! میرے سامنے تیرے اوپر تین دور گزر چکے ہیں ۔۔۔۔
ایک دور تو وہ تھا کہ تو سخت گرمی کے زمانے میں اونٹ چرایا کرتا تھا ۔۔۔۔ اور اونٹ بھی چرانے نہیں آتے تھے ۔۔۔۔ صبح سے شام تک حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اونٹ چرا کر آتے تو خطاب کی مار پڑتی تھی کہ اونٹوں کو اچھی طرح چرا کر کیوں نہیں لایا؟
(ان کی بہن عمر کو یہ کہتی تھی کہ عمر تجھ سے تو پھلی نہیں پھوٹتی)
تو اس بڑھیا نے کہا کہ تو اونٹ چرایا کرتا تھا اور تیرے سر پر ٹاٹ کا یا کمبل کا ٹکڑا ہوتا تھا اور ہاتھ میں پتے جھاڑنے کا آنکڑا ہوتا تھا ۔۔۔۔
دوسرا دور وہ آیا کہ لوگوں نے تجھے عمیر کہنا شروع کیا ۔۔۔۔ اس لئے کہ ابوجہل کا نام بھی عمر تھا اس کی طرف سے پابندی تھی کہ میرے نام پر نام نہ رکھا جائے ۔۔۔۔ گھر والوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام میں تصغیر کر کے عمیر کہنا شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔ ۲ھ میں غزوئہ بدر ہوا ۔۔۔۔ اور اس میں ابوجہل مارا گیا اس وقت ان کو عمیر ہی کہا جاتا تھا ۔۔۔۔
بڑھیا نے کہا کہ اب تیسرا دور یہ ہے کہ تجھے نہ کوئی عمیر کہتا ہے نہ عمر ۔۔۔۔ بلکہ امیر المؤمنین کہہ کر پکارتے ہیں اس تمہید کے بعد بڑھیا نے کہا ۔۔۔۔ اِتَّقِ اﷲَ تَعَالٰی فِیْ الرَّعِیَّۃِ: رعایا کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا ۔ امیر المؤمنین بننا آسان ہے مگر حق والے کا حق ادا کرنا مشکل ہے۔ کل حقوق کے بارے میں باز پرس ہو گی لہٰذا ہر حق والے کا حق ادا کرو ۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ زاروقطار رو رہے ہیں یہاں تک کہ ڈاڑھی مبارک سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے ہیں ۔ صحابہ جو ساتھ تھے انہوں نے بڑھیا کی طرف اشارہ کیا کہ بس تشریف لے جائو ۔۔۔۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے رونے کی وجہ سے زبان بھی نہ اٹھ سکی اشارہ سے ہی منع فرما دیا کہ ان کو فرمانے دو جو فرما رہے ہیں ۔ جب وہ چلی گئی تب صحابہ میں سے کسی نے پوچھا: کہ یہ بڑھیا کون تھی؟
جس نے آپ کا اتنا وقت ضائع کیا:۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اگریہ ساری رات کھڑی رہتیں تو عمر یہاں سے سرکنے والا نہیں بجز فجر کی نماز کے ۔۔۔۔ یہ بی بی صاحبہ خولہ بنت ثعلبہ ہیں جن کی بات کی شنوائی ساتویں آسمان کے اوپر ہوئی اور حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:۔
ترجمہ: ’’بالیقین اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ کے آگے جھینک رہی تھی ۔۔۔۔ ‘‘۔
فرمایا: عمر کی کیا مجال تھی کہ ان کی بات نہ سنے جن کی بات ساتویں آسمان کے اوپر سنی گئی ۔ (اسلام میں امانتداری کی حیثیت اور مقام )
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

