خوشی طبعی سے متعلق سنتیں
ہنسی و مذاق مستحب ہے
ہنسی اور مذاق جس میں کسی کی دل شکنی اور ایذاء رسانی کا پہلو نہ ہو بلکہ مخاطب کی دلبستگی و خوش وقتی اور آپس میں محبت و موانست کے جذبات کو مستحکم کرنا ہو تو یہ چیز سنت مستحبہ ہے۔ بعض لوگ سنجیدہ اور متین بنتے ہیں تو اتنے کہ خوش طبعی اور ظرافت ان سے کوسوں دور رہتی ہے اور بعض خوش طبع بنتے ہیں تو اس قدر کہ تہذیب و اخلاق ان سے کوسوں دور بھاگ جاتی ہے۔ اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات اور عمل سے ایک خاص معیار ہمیں اپنے سامنے رکھنا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف نبی مرسل صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت سے احترام رسالت کو ملحوظ رکھتے ہوئے وعظ و تلقین میں مصروف رہتے تھے تو دوسری طرف صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے ساتھ ایک بے تکلف دوست اور ایک خوش مزاج ساتھی کی حیثیت سے بھی میل جول رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش طبعی اور ظرافت کی تعریف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی زبان مبارک سے سن لیجئے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مذاق فرماتے ہیں؟ یعنی خوش طبعی فرماتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں مگر میں اس خوش طبعی میں بھی سچی بات کہتا ہوں۔ اس کے مقابلہ میں ہمارا آج کل کا مذاق وہ ہے جس میں جھوٹ، غیبت، بہتان، طعن و تشنیع اور بے حد مبالغوں سے کام لیا گیا ہو۔
ہنسی مزاح کے متعلق ہدایات اور سنتیں
۔(۱) حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی اور شخص کو مسکراتے نہیں دیکھا۔ (مشکوٰۃ المصابیح) … (۲) حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سے میں مسلمان ہوا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ کو منع نہیں فرمایا اور جب بھی آپ مجھ کو دیکھتے مسکرا دیتے۔ (مشکوٰۃ المصابیح)
۔(۳) حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے دریافت کیا گیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ہنسا کرتے تھے؟ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا ہاں … حالانکہ ان کے دلوں میں پہاڑ سے بڑا ایمان تھا جن کے ایمان کی پختگی و رفعت کا قرآن مجید میں کئی مقام پر ذکر ہوا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تصدیق و تعریف بیان فرمائی۔ حضرت بلال بن سعید تابعی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو اس حال میں بھی پایا ہے کہ وہ (دن میں تیر اندازی کی مشق کے وقت) تیر کے نشانوں کے درمیان دوڑا کرتے تھے اور ایک دوسرے کی باتوں پر ہنسا کرتے تھے مگر جب رات آتی تو وہ اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ ڈرنے والے ہو جاتے۔ (شرح السنہ مشکوٰۃ) … ان تینوں روایات کا حاصل یہ ہے کہ بہت زیادہ کھل کھلا کر ہنسنا قہقہہ لگانا دل کو غافل کردیتا ہے اور نورِ ایمان میں خلل ڈالتا ہے (ہاں کبھی اتفاق ہو تو وہ دوسری بات ہے) البتہ مسکرانے کی حد تک ہنسنا مستحب ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح) … اگر آپ کسی سے خندہ پیشانی سے پیش آئیں اور چہرے پر مسکراہٹ ہو تو یہ چہرے کی رونق بھی ہے اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جیساکہ آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بھی جب مسکرانے کا موقع آتا تو مسکرایا کرتے تھے مگر اہل غفلت اور دُنیا دار لوگوں کی طرح نہیں بلکہ ہنسنے کی حالت میں بھی شرعی آداب کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے اور اپنے ایمان کو کامل درجہ پر قائم رکھتے اور جب رات آتی تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین دُنیا کے سارے کام کاج آرام و راحت چھوڑ کر خوفِ الٰہی کے غلبہ سے روتے، گڑگڑاتے اور مناجات میں مصروف ہو جاتے تھے۔
۔(۴) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن) ایک شخص نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کا ایک جانور مانگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں اونٹنی کا بچہ دوں گا، اس شخص نے عرض کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں اونٹنی کے بچہ کا کیا کروں گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اونٹ کو اونٹنی ہی تو جنتی ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح) … (۵) تفسیر مظہری نے بحوالہ بیہقی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک روایت نقل کی ہے کہ ایک دن جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے۔ میرے پاس ایک بڑھیا بیٹھی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا میری رشتہ کی ایک خالہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور مزاح کے فرمایا: ’’لاتدخل الجنۃ عجوز‘‘ جنت میں کوئی بڑھیا نہ جائے گی، یہ بیچاری سخت غمگین ہوئی۔ بعض روایات میں ہے کہ رونے لگی تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو تسلی دی اور اپنی بات کی حقیقت یہ بیان فرمائی کہ جس وقت یہ جنت میں جائے گی تو بوڑھی نہ ہوگی بلکہ جوان ہوکر داخل ہوگی۔
۔(۶) حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں غزوۂ تبوک میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کے ایک خیمہ میں تشریف فرما تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا اندر آ جاؤ۔ میں نے (مزاح کے طور پر) عرض کیا یارسول اللہ! پورے کا پورا اندر آجاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سارے جسم کو اندر لے آؤ۔ حدیث کے راوی عثمان بن عاتکہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے کہ عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ فقرہ اس لیے کہا تھا کہ خیمہ چھوٹا تھا۔ (السنن للامام ابی داؤد)
فائدہ:…اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے ساتھ اس طرح محبت و شفقت کا تعلق رکھتے تھے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بے تکلفی کے موقع پر ظریفانہ بات بھی کرلیتے تھے۔ (مظاہر حق)
۔(۷) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے دو کانوں والے۔ (ابو داؤد، کتاب الادب)
وضاحت:…آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دو کانوں والے کے ذریعے مخاطب فرمایا، اس میں خوش طبعی اور ظرافت بھی تھی اور ان کے تئیں اس کی تعریف و توصیف کا اظہار بھی مقصود تھا کہ تم نہایت فہیم و ذکی ہو اور تم سے جو بات کہی جاتی ہے اس کو تم اچھی طرح سنتے ہو۔ (مظاہر حق)…اللہ رب العزت ہم سب کو ان ہدایات و سنتوں پر عمل کرنیکی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
اچھی گفتگو کے متعلق سنتیں
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ بعض وقت زبان سے ایسی بات نکالتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ خوش ہو جاتے ہیں لیکن وہ بندہ اس حیثیت سے واقف نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ اس بات کے بدلہ میں اس کے درجات کو بلند کردیتا ہے اور بعض اوقات بندہ ایسی بات کہتا ہے جس سے اللہ رب العزت ناراض ہوجاتے ہیں اور وہ اس سے واقف نہیں ہوتا اور وہ بات اس کو جہنم میں لے جاتی ہے۔ (الصحیح للامام البخاری)
آدمی کو چاہیے کہ زبان کو بے لگام نہ چھوڑ دے بلکہ اس کی حفاظت کرے کیونکہ بعض اوقات زبان سے ایسے الفاظ بھی نکل سکتے ہیں جو چند لمحات کے اندر دوست کو دشمن اور اپنے کو بیگانہ بنا دیتے ہیں۔ یہی زبان اپنے مالک کو لوگوں کی نظروں سے گرادیتی ہے۔ اس زبان کی تخلیق بھی عجیب و غریب ہے، غور کیا جائے تو یہ اللہ رب العزت کی ایک عظیم نعمت ہے، اگر اسے صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو یہ بلندیٔ درجات کا سبب بنتی ہے ورنہ خسارے میں ڈال دیتی ہے۔
۔(۱) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ وہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔ (الصحیح للامام البخاری) … (۲) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص زبان اور شرمگاہ کی (حفاظت) کی ذمہ داری دے گا میں اس کے لیے جنت کی ذمہ داری دوں گا۔ (بخاری)
۔(۳) ایک حدیث مبارکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم سے بچو، خواہ آدھی کھجور ہی (صدقہ کرکے) ہوسکے اور اگر کسی کو یہ بھی میسر نہ ہو تو اچھی بات کے ذریعہ (جہنم سے بچے)۔ (۴)حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیز تیز اور مسلسل بات نہیں کرتے تھے جس طرح تم (میں سے بعض لوگ) مسلسل بولتے چلے جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح ٹھہر ٹھہر کر بات کرتے کہ اگر کوئی گننا چاہتا تو گن سکتا تھا۔ (مشکوٰۃ المصابیح)
۔(۵)بات کا نرمی سے جواب دینا چاہیے ۔ (نشرالطیب) …(۶) اگر کسی مسئلہ کے بیان میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مصروف گفتگو ہوتے اور قبل اس کے کہ سلسلہ کلام ختم ہو کوئی شخص دوسرا سوال پیش کردیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سلسلہ تقریر کو بدستور جاری رکھتے ، ایسے معلوم ہوتا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا ہی نہیں، جب گفتگو ختم کرلیتے تو سائل سے اس کا سوال معلوم کرتے اور اس کا جواب دیتے۔ (نشرالطیب) …(۷) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے مجمع میں ہوتے تو بوقت گفتگو کبھی اِدھر رُخ کرکے تخاطب فرماتے اور کبھی اُدھر۔ گویا حلقہ میں سے ہر شخص بوقت گفتگو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک کو دیکھ لیتا۔ (نشرالطیب)
۔(۸) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کلام فرماتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام جلیس (ساتھ بیٹھنے والے) اس طرح سر جھکا کر بیٹھ جاتے جیسے ان کے سروں پر پرندے آکر بیٹھ گئے ہوں اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساکت ہوتے تب وہ بولتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی بات پر نزع نہ کرتے تھے۔
۔(۹) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو شخص بولتا اس کے فارغ ہوتے تک سب خاموش رہتے۔ اہل مجلس میں سے ہر شخص کی بات رغبت کے ساتھ سنی جاتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ملنے والوں کے بارے میں استفسار فرماتے اور لوگوں میں جو واقعات ہوتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ پوچھتے رہتے تاکہ مظلوم کی نصرت اور مفسدوں کا انسداد ہوسکے۔ (اسوۂ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم)
۔(۱۰) کسی جاہل یا مخالف سے لغو و بیہودہ بات سنے تو اس کا جواب دینے کے بجائے السلام علیکم کہہ کر اپنی راہ لے لینی چاہیے۔ (۱۱) چغل خور جنت میں نہ جائیں گے۔ (مشکوٰۃ المصابیح)
۔(۱۲)سچ بولنا نیکی ہے اور نیکی جنت لے جاتی ہے اور جھوٹ بولنا فسق و فجور ہے اور فسق و فجور جہنم میں لے جاتا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح) …(۱۳)۔ جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو (حفاظت کرنے والے) فرشتے اس کی جھوٹ کی بُو سے میلوں دور چلے جاتے ہیں۔ (مشکوٰۃ)…(۱۴) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم قیامت کے دن بدترین لوگوں میں سے ان کو پاؤ گے جو دو منہ رکھنے والے ہوں گے، ان کے پاس جائیں گے تو ان کی سی بات کہیں گے اور ان کے پاس جائیں گے تو ان کی سی بات کہیں گے۔ (مشکوٰۃ المصابیح)
ایک روایت میں ہے کہ اس کے منہ میں آگ کی دو زبانیں ہوں گی۔ (مشکوٰۃ بحوالہ دارمی) یہ دونوں صورتیں الگ الگ بھی ہوسکتی ہیں اور ایک ساتھ بھی۔ واللہ اعلم بالصواب
۔(۱۵) خوش طبعی کرنا اور اس میں سچ بولنا سنت ہے۔ (نشرالطیب) …آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص گفتگو کرے اور جھوٹ بولے اس لیے کہ لوگوں کو ہنسائے افسوس ہے اس پر، افسوس ہے اس پر۔ (مشکوٰۃ المصابیح) … (۱۶) جو شخص خاموش رہا اس نے نجات پائی۔ (مشکوٰۃ)… (۱۷)آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو مبالغہ کے ساتھ تعریفیں کرتے ہوں (یعنی جھوٹی تعریف کرتے ہوں) تو ان کے منہ میں آگ ڈال دو۔ (یعنی ان سے منہ پھیرلو)۔ (مشکوٰۃ، کتاب الادب)
۔(۱۸) کوئی شخص کسی پر نہ تو فسق کی تہمت لگائے اور نہ کفر کی، اس لیے کہ اگر وہ شخص ایسا نہیں ہے یعنی وہ فاسق یا کافر نہیں ہے تو یہ کلمہ کہنے والے پر لوٹ پڑتا ہے۔ (مسلم)… (۱۹) مسلمان کو برا کہنا فسق ہے اور مسلمان کو مارنا کفر ہے۔ (بخاری) …(۲۰) اگر دو شخص ایک دوسرے کو برا کہیں تو برا کہنے کا گناہ اس پر ہوگا جس نے پہل کی وہ ظالم ہے اور دوسرا مظلوم جب تک وہ حد سے آگے نہ بڑھے۔ (بخاری)
۔(۲۱) اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن بدترین آدمی وہ ہوں گے جن کو لوگ ان کی برائی کی وجہ سے ڈر کر چھوڑ دیں۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جن کی فحش گوئی سے ڈر کر لوگ ان سے دور دور رہیں۔ (مشکوٰۃ) … (۲۲) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مؤمن نہ طعن کرنے والا ہوتا ہے ، نہ لعن کرنے والا ، نہ فحش بکنے والا اور نہ ہی زبان دراز ہوتا ہے۔ (مشکوٰۃ) … (۲۳) اگر کسی عورت کو جس کا لڑکا فوت ہوگیا ہو یا گم ہوگیا ہو کوئی شخص اسے تسلی اور دلاسہ دے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں خلعت فاخرہ پہنائیں گے۔ (یعنی کسی بھی غمزدہ مسلمان بھائی کو تسلی دینا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرب الٰہی کا ذریعہ ہے)۔ (مشکوٰۃ، کتاب الادب)
اچھی گفتگو سے متعلق سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو تم لوگوں کی طرح سے لگاتار جلدی جلدی نہیں ہوتی تھی بلکہ صاف صاف، ہر مضمون دوسرے سے ممتاز ہوتا تھا، پاس بیٹھنے والے اچھی طرح سے ذہن نشین کرلیتے تھے۔ یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو مجمل یا جلدی جلدی نہیں ہوتی تھی کہ کچھ سمجھ میں آئے، کچھ نہ آئے بلکہ ایسی اطمینان بخش واضح گفتگو ہوتی تھی کہ مخاطبین اچھی طرح سمجھ جاتے تھے۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (بعض مرتبہ) کلام کو (حسب ضرورت) تین تین مرتبہ دُہراتے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سننے والے اچھی طرح سمجھ لیں۔
یعنی مضمون اگر مشکل ہوتا تو غور و تدبر کے لیے یا مجمع زیادہ ہوتا تو تینوں جانب متوجہ ہوکر تین مرتبہ مضمون بیان فرماتے تاکہ حاضرین اچھی طرح محفوظ کرلیں۔ تین مرتبہ غایت اکثریہ ہے ورنہ دو مرتبہ کافی ہو جاتا تو دو مرتبہ فرماتے۔ (شمائل ترمذی)
ایک حدیث میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کی علامت بتائی ہے کہ وہ دن میں چیخ چیخ کر بولنے اور شور مچانے کے عادی ہوتے ہیں۔ (بحوالہ مسند احمد)
اچھی گفتگو کی اہمیت و ضرورت
لوگوں کے ساتھ دھیمے اور شیریں لہجے میں بات کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ قرآن مجید میں بہت سی جگہ شدت کے ساتھ اس کی تاکید کی گئی ہے۔ سورۂ لقمان میں حضرت لقمان علیہ السلام اپنے بیٹے کو یوں نصیحت کرتے آتے ہیں کہ ’’واغضُضْ مِنْ صَوتِک اِنَّ أَنْکَرَ الأصواتِ لصَوتُ الحَمِیر‘‘ … ’’اپنی آواز کو دھیما رکھا کرو، کرخت ترین آواز تو گدھوں کی ہوا کرتی ہے۔‘‘۔
یہاں سے معلوم ہوا کہ دھیمے اور شیریں کلام کے بجائے دوسروں پر چلاتے پھرنا فطانت و ذہانت کی بات نہیں بلکہ گدھے پن کی بات ہے۔
اچھی گفتگو اور انداز تبلیغ
اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو فرعون کے پاس روانہ کیا، تو یہ نصیحت بھی کی: ’’فقولا لہ قولاً لیناً لعلہُ یتذکَّرُ أو یَخْشٰی‘‘ … ’’فرعون کے ساتھ نرم لہجے میں بات کرنا شاید وہ نصیحت حاصل کرلے یا اللہ کا خوف اس میں پیدا ہو۔‘‘ …اس آیت سے یہ اہم بات معلوم ہوئی کہ جس شخص کے سامنے تبلیغ کی جارہی ہو اور یہ مقصود ہو کہ اس شخص کے دل میں نصیحت اور خشیت الٰہی کے پودے جڑ پکڑیں تو لازمی ہے کہ اس شخص کے ساتھ نرم لہجے میں بات کی جائے۔ درشت اور کرخت لہجے میں بات کرنے سے نصیحت حاصل ہوگی نہ خشیت الٰہی۔
یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے عام مسلمانوں کو حکم دیتے ہوئے ایک اور آیت میں اس طرح ارشاد کی گئی ہے کہ ’’اُدعُ الٰی سبیلِ ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃِ وجادلھم بالتی ھی أَحسن‘‘ …’’دانش مندی اور عمدہ و میٹھی نصیحت کے ذریعے لوگوں کو اپنے رب کے راستے کی طرف بلایئے اور ان سے کبھی بحث بھی کیجئے تو انتہائی حسین پیرائے میں۔‘‘۔
اس آیت سے اشارتاً یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ دھیمے، میٹھے اور حسین انداز میں گفتگو کرتے ہوئے حکمت اور دانش مندی کا ساتھ حاصل ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس بات کرتے ہوئے جب پارہ چڑھ جائے ، لہجہ کرخت اور تلخ ہو جائے تو حکمت کا ساتھ بھی باقی نہیں رہتا۔ ایسی صورت میں جذباتی ، غیر دانش مندانہ اور بے تکی باتیں ہی منہ سے نکلتی ہیں۔
اچھی گفتگو حاصل کرنے کی بہترین ترکیب
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اچھی گفتگو اور شیریں گفتاری ایسی عمدہ نعمت کو حاصل کرنے کی آسان ترکیب کیا ہوسکتی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے اس بارے میں بہت ہی عمدہ سبق ملتا ہے۔ وہ سبق یہ ہے کہ چہرے پر ہروقت مسکراہٹ، شیرینی اور خندہ پیشانی جھلک رہی ہو اور دوسرے شخص کے لیے آنکھوں سے محبت ٹپک رہی ہو۔ جذبات ہو تو خیرخواہی اور محبت کے … کینہ، حسد جیسے امراض سے بچنے کی کوشش کی جائے تو چہرہ از خود کشادہ، شگفتہ اور منور ہو جائے گا۔ نفرت نہ صرف زبان بگاڑ دیتی ہے بلکہ چہرہ کو بھی تیوری زدہ اور مسخ شدہ بنا دیتی ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہروقت مسکراہتے رہتے تھے۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا قول حدیث شریف میں یوں نقل کیا گیا ہے۔ ’’ما رأیت اکثر تبسما من وجہِ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلّم‘‘ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے زیادہ مسکراتا ہوا اور کوئی چہرہ نہیں دیکھا۔‘‘۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نقل کرتی ہیں کہ ’’رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی گھر میں داخل ہوتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی۔‘‘ یہ بات دل کو بھی لگتی ہے کہ اتنی حسین کائنات میں انسان آخر اپنے چہرہ کو بسورا ہوا اور مرجھایا ہوا خشک اور غیر شگفتہ کیوں بنائے رکھا۔ مسکراتا ہوا چہرہ حسین دل کا ترجمان ہے اور اس کا نتیجہ حسین، شگفتہ اور شیریں گفتگو ہے۔ شاعر نے خوب کہا ہے
اچھی گفتگو نہ ہوسکے تو انسان کیا کرے
بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کسی رنج و فکر کا شکار ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں اس کی شگفتگی اور شیرینی ضرور متاثر ہو جاتی ہے۔ ایسے موقع کے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت یہ ہے کہ زبان کو بند رکھو۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ’’مَنْ صَمَتَ نَجَا‘‘ … ’’جس شخص نے خاموشی اختیار کی (اپنی زبان پہ قابو پالیا) وہ نجات پاگیا۔‘‘۔
خاموشی بذاتِ خود ایک خوبی ہے اور غوروفکر کا ذریعہ ہے۔ حکمت انہی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو کچھ عرصہ خاموشی اختیار کیے رکھتے ہیں۔ لیکن جذباتیت کے مواقع پر خاموش رہ لینا اور اپنی زبان کو قابو میں لے لینا شخصیت کا سب سے بڑا حسن ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کی تعریف عجیب الفاظ میں ارشاد فرمائی ہے: ’’المسلمُ مَن سلِمَ المُسلمُونَ مِن لِّسانہِ ویدہٖ‘‘ … ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان سے اور ہاتھ سے دیگر مسلمان محفوظ ہوں۔‘‘۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو عورتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک عورت تو صرف فرائض و واجبات کی حد تک ہلکی پھلکی اور بنیادی عبادات کرنے والی تھی۔ دوسری عورت ساری ساری رات نفلیں پڑھتی تھی لیکن ہمسایہ عورتوں کے ساتھ سخت اور درشت باتیں کیا کرتی تھی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی قسم کی یعنی خوش کلامی والی عورت کو جنتی قرار دیا اور دوسری عورت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔
اچھی گفتگو اور مؤمن کی شان
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’لیس المؤمن طعان ولا لعان‘‘ … ’’مؤمن نہ تو طعنے دینے والا ہوتا ہے اور نہ ہی لعنتیں بھیجنے والا ہوتا ہے۔‘‘۔
۔’’ویلٌ لکلِّ ھُمزۃ لمزۃ۔ ألذی جمعَ مالاً وعدَّدَہٗ یحسَبُ أنَّ مَالَہٗ أخلدَہٗ‘‘ … ’’تباہی ہے ہر اس شخص کے لیے جو طعنے دیتا ہے اور عیب چنتا ہے۔ وہ شخص جس نے مال سمیٹا اور اسے گن گن کر رکھا۔ وہ خیال رکھتا ہے کہ اس کا مال سدا اس کے ساتھ رہے گا۔‘‘۔
اس آیت سے ایک بنیادی بات معلوم ہوئی وہ یہ کہ زبان درازی، طعنہ گوئی اور عیب چینی کی عادات اسی شخص میں ہوتی ہیں جو مال و دولت سمیٹنے کا رسیا ہو اور اس کا سارا بھروسہ مال و اسباب پر ہو۔ ایسا شخص انتہائی لالچی اور دولت کی محبت میں جائز و ناجائز ہتھکنڈے اختیار کرنے والا ہوتا ہے۔ اپنے ناجائز کاموں کا جواز ڈھونڈنے کے لیے وہ معاشرے کے دوسرے لوگوں میں عیب ڈھونڈتا پھرتا ہے۔ جہاں اسے کسی کا عیب ملا وہ فوراً اس کی تشہیر کرتا ہے اور جگہ جگہ طعنے دیتا پھرتا ہے تاکہ لوگوں کی توجہ دوسروں کے عیوب پر رہے اور اس کے اپنے جرائم لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طعنے دینے اور زبان کے غلط استعمال کو بدترین جرم قرار دیا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کہ زبان درازی سے زیادہ بری چیز آدمی کے لیے اور کوئی نہیں۔ ایک اور جگہ فرمایا ہے کہ ’’الغیبۃ اشد من الزَّنا‘‘ … ’’غیبت زنا کے مقابلے میں زیادہ شدید جرم ہے۔‘‘۔
غور فرمایئے! کہ ایک بدکار شخص کے بارے میں یہ کہتے پھرنا کہ وہ بدکار ہے، خود بدکاری کے مقابلے میں زیادہ سنگین جرم ہے۔ سیدھا طریقہ یہ ہے کہ یا تو ایسے شخص کا یہ جرم عدالت میں ثابت کیا جائے جس کے لیے چار معزز گواہوں کی ضرورت ہے یا پھر اپنی زبان کو بند رکھا جائے ورنہ اسی طرح زبان کھولنے کے جرم کی سزا اسلامی فقہ میں اسّی (۸۰) کوڑے لگانے کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ باتیں کرنے سے منع فرمایا ہے کہ اس میں لغو باتوں کا یا غیبت کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کہ زیادہ بولنے والا آدمی عام طور پر جھوٹا ہوتا ہے۔
قرآن مجید میں بھی سختی کے ساتھ اس بات کی تاکید کی گئی ہے۔ ارشاد ربانی ہے کہ ’’لا خیرَ فی کَثیرٍ مّن نَّجوٰھُم الامن أمَرَ بصَدَقۃٍ أو معرُوفٍ أو اِصلاح بین النَّاس‘‘ … ’’ان لوگوں کی اکثر سرگوشیوں میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی۔ ہاں مگر وہ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں جو نیکی یا بھلائی کا یا لوگوں میں باہمی صلح کا مشورہ دیں۔‘‘۔
فن گفتگو میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اچھا بولنے والا کوئی نہیں
فن گفتگو میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اچھا بولنے والا آج تک نہیں گزرا اور نہ ہی پیدا ہوگا۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیر گفتگو کی کرامت ہی تھی جس کی وجہ سے چند سالوں میں پوری دُنیا میں اسلام کا پرچم لہرایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کو منافق بھی چھپ چھپ کر سنتے حالانکہ منافقین کے سردار اپنی قوم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو سننے سے منع کرتے اور کہتے (نعوذ باللہ) یہ جادوگر ہے اس کی بات نہ سننا ورنہ اس کے ہو جاؤ گے۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو فرماتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے آپ کے مبارک منہ سے نور کی جھڑی لگ گئی ہو اور مجلس کے حسب حال گفتگو فرماتے نہ اس میں زیادہ اختصار ہوتا نہ طوالت۔ بڑے بڑے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو سن کر ششدر رہ جاتے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ اونچا نہیں بولتے بلکہ ٹھہر ٹھہر کر نرم آواز میں گفتگو فرماتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو کے فن کے بارے میں صحابہ رضی اللہ عنہم کو کئی ہدایات فرمائیں۔ کہیں فرمایا کوئی گفتگو کررہا ہو تو اس کو بخوشی سنو، کہیں فرمایا دو اشخاص جب گفتگو کررہے ہوں تو تیسرا شخص نہ بولے، کہیں فرمایا مختصر اور جامع گفتگو کرو۔ غرض یہ کہ آداب گفتگو کی ساری باریکیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سمجھائیں۔
اصحاب سیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری گفتگو کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام اتنا میٹھا ہوتا تھا کہ دلوں میں اُتر جاتا۔‘‘۔
اُم المؤمنین حضرت اماں عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کے بارے میں فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی جلدی کلام نہیں فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو بڑی واضح اور صاف ہوتی تھی۔ اگر کوئی شخص آپ کی گفتگو کے الفاظ کو شمار کرنا چاہتا تو کرسکتا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ’’گفتگو میں اختصار سے کام لو، کلام اتنا ہی مفید ہوتا ہے جتنا آسانی سے سنا جاسکے، طویل کلامی گفتگو کا کچھ حصہ ذہنوں میں ضائع کردیتی ہے۔‘‘۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ’’ایسی بات مت کہو جو مخالف یا مخاطب کی سمجھ سے باہر ہو۔‘‘ … حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے کہ: ’’بہترین کلام وہ ہے جس سے سننے والے کو ملال اور اس پر بوجھ نہ ہو۔‘‘۔
حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ’’کلام میں نرمی اختیار کرنا کیونکہ الفاظ کی نسبت لہجے کا زیادہ اثر پڑتا ہے۔‘‘ … اس وقت عوام الناس میں ساری برائیوں کی اصل جڑ گفتگو اور زبان کا غلط استعمال ہے۔ (بحوالہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم)
بے مقصد گفتگو
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ فضول اور بے مقصد باتوں کو بالکل چھوڑ دے۔ (ترمذی شریف)
نامحرم عورتوں سے گفتگو
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قرآن مجید میں ہے کہ ’’تم بولنے میں نزاکت اختیار نہ کرو۔‘‘ کیونکہ اس سے ایسے شخص کو خیال فاسد پیدا ہونے لگتا ہے کہ جس کے قلب میں خرابی ہے اور قاعدے کے مطابق بات کیا کرو۔ (بحوالہ سورۃ احزاب)
گفتگو میں بناوٹ
حدیث پاک میں ہے جس شخص نے اسالیب کلام میں ادل بدل صرف اس لیے سیکھا کہ لوگوں کے دلوں کو اس کے ذریعے مسخر کرسکے تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے کوئی فدیہ یا معاوضہ قبول نہیں فرمائیں گے۔ (ابوداؤد)
مزید فرمایا اللہ تعالیٰ اس بلیغ شخص کو ناپسند فرماتا ہے کہ جو اپنی زبان کو اس طرح توڑتا مروڑتا ہے جس طرح ایک بیل اپنی زبان کو توڑ مروڑ کر گھاس کھاتا ہے۔ (ابوداؤد)
گفتگو میں اختصار
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں مناسب سمجھتا ہوں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ بات چیت میں اختصار سے کام لوں کیونکہ اس میں بہتری اور برکت ہوتی ہے۔ (ابوداؤد)
سنت والی زندگی اپنانے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر مطلوبہ کیٹگری میں دیکھئے ۔ اور مختلف اسلامی مواد سے باخبر رہنے کے لئے ویب سائٹ کا آفیشل واٹس ایپ چینل بھی فالو کریں ۔ جس کا لنک یہ ہے :۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M
