خوشیوں کی طرح ۔۔۔۔ دُکھ بھی بانٹ لیا کریں (66)۔
ٹینشن اور پریشانیوں سے نجات والی زندگی ہر ایک کو چاہئے ہوتی ہے۔ ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ مجھے اس دنیا میں کوئی بھی ٹینشن نہ ہو اور کوئی بھی فکرمندی نہ ہو بلکہ میں آزاد اور خوشی خوشی زندگی بسر کروں۔ اس آزادی اور خوشی کا طریقہ صبر و شکر ہے۔ یعنی جب کوئی مصیبت آئے تو صبر کرو اور جب خوشی آئے تو شکر کرو۔
لیکن لوگوں نے ٹینشن سے دور رہنے کا ایک یہ غلط طریقہ اپنا لیا ہے کہ وہ کبھی بھی پریشان نہیں ہوتے۔ بے حسی اختیار کرلیتےہیں اور جذبات سے عاری ہوجاتےہیں۔ خواہ کوئی مرے یا جئے، کوئی تکلیف میں ہو یا خوشی میں ہو، کوئی تنگی میں ہو یا کسی بڑی مصیبت میں ہو مگر یہ لوگ ٹینشن نہیں لیتے۔ اور اپنے تئیں خوش رہتے ہیں کہ مجھے اس دنیا میں کوئی غم اور پریشانی نہیں ہے۔
تودوستو! یہ مزاج بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے۔ تھوڑی دیر کے لئے جذبات سے مغلوب ہوجانا، پریشانی کو دور کرنے کی فکر کرنا یا پھر مصیبت کے وقت خود کو مسکین ظاہر کرنا یہ عین مطابق فطرت ہے اور اسلام میں بھی اسکی اجازت ہے۔
اگر کوئی شخص فوت ہوجائے تو اُسکے لواحقین کو تین دن تک سوگ منانے کی بھی اجازت ہے۔ اسی طرح اگر کوئی بیمار ہو تو اُسکو تسلی دلانا اور اُسکے لئے دعائیں کرنا، تیمارداری کرنا اور دکھ میں شریک ہونا۔ یہ سب اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔ اگر آپ پر کوئی بھی خدانخواستہ مصیبت آن پڑتی ہے تو یہ ظاہر نہ کریں کہ چاہے دنیا میں کچھ بھی ہوجائے مگر میں کبھی بھی پریشان نہیں ہوتا۔ یہ تکبرانہ مزاج بالکل پسندیدہ نہیں ہے۔
ہر مصیبت میں خود کو انتہائی نارمل رکھنا اور حد سے زیادہ اپنے اوپر کنٹرول کرلینے سے بعض اوقات آدمی اندر سے بہت زیادہ گھٹن کا شکار ہوجاتا ہے۔ دل کے امراض اور ذہنی دباؤ کا مریض بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو عافیت میں رکھے لیکن اگر کبھی کوئی مشکل وقت آجائے تو اپنے دوستوں کو، عزیز و اقارب کو اور خیرخواہوں کو اطلاع کریں کہ میں فلاں پریشانی میں ہوں میرے لئے دعا کیجئے۔ اس طرح کہنے میں ذرا برابر بھی حرج نہیںبلکہ اُنکو دکھ میں شریک ہونے کا موقع ملے گا اور وہ اجر وثواب کے مستحق ہوجائیںگے۔
یہ عمل اصول صبر کے خلاف بھی نہیں ہے۔ بلکہ صبر کا مطلب تو ہوتا ہے کہ ناشکری نہ کریں اور واویلا نہ ڈالیں۔ مگر گھٹ گھٹ کر مرنے اور چہرے پر جھوٹی ہنسی سجا لینے کو صبر نہیں کہاجائےگا بلکہ یہ اپنے نفس پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔
اسکو تسلیم کریں کہ دکھ اور پریشانیاں زندگی کا حصہ ہیں۔ جب بھی کوئی ایسا وقت آئے تو جو خیرخواہ لوگ ہیں اُنکو اطلاع ضرور کریں اور دُعا کیلئے کہہ دیں۔ اس اطلاع کو عیب نہ سمجھیںاور اسکواپنی کمزوری نہ سمجھیں بلکہ یہ زندگی کا حصہ ہے ۔ جس شخص کو بھی آپ اپنی پریشانی میں شریک کرتے ہیں ۔ اُسکے ساتھ رشتہ اور تعلق پہلے سے زیادہ مضبوط ہوجاتا ہے ۔
نوٹ : یہ ’’آج کی بات‘‘ ایک بہت ہی مفید سلسلہ ہے جس میں حذیفہ محمد اسحاق کی طرف سے مشاھدات،خیالات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر ہوتی ہے ۔ یہ تحریر ہماری ویب سائٹ
Visit https://readngrow.online/ for FREE Knowledge and Islamic spiritual development.
پر مستقل شائع ہوتی ہے ۔ ہر تحریر کے عنوان کے آگے ایک نمبر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس اسکی قسط کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کون سی قسط ہے ۔ پچھلی قسطیں بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔ اگر کوئی پیغام یا نصیحت یا تحریر آپکو پسند آتی ہے تو شئیر ضرور کریں ۔ شکریہ ۔
مزید اپڈیٹس کے لئے ہمارے واٹس ایپ چینل کو ضرور فالو کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M

