حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق

قبا تشریف لے جانے کے لیے حمار (گدھے) کی ننگی کمر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو ارشاد فرمایا کہ اچھا آئو تم بھی سوار ہو جائو۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میں کافی وزن تھا‘ چڑھنے کے لیے اُچھلے مگر نہیں چڑھ سکے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو لپٹ گئے جس سے دونوں گرے‘ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور فرمایا کہ ابوہریرہ تمہیں بھی سوار کرلوں؟ عرض کیا جیسے رائے عالی ہو۔ فرمایا‘ اچھا چڑھو! وہ نہیں چڑھ سکے بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر گرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سوار کرنے کے لیے پوچھا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اس ذات پاک کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے کہ تیسری دفعہ میں آپ کو نہیں گرائوں گا۔ لہٰذا اب میں سوار نہیں ہوتا۔
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے کہ ایک بکری پکانے کی تجویز ہوئی۔ ایک شخص نے کہا کہ اس کا ذبح کرنا میرے ذمہ ہے‘ دوسرا بولا کہ اس کی کھال کھینچنا میرے ذمہ‘ تیسرے نے کہا کہ اس کا پکانا میرے ذمہ ہے‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لکڑیاں جمع کرنا میرے ذمے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رفقاء نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ ہم ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کرلیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں مجھے معلوم ہے کہ تم میری طرف سے کرلو گے لیکن مجھے یہ بات ناگوار ہے کہ میں اپنے رفیقوں سے امتیازی شان میں رہوں اور اللہ پاک کو بھی اپنے بندے کی یہ بات ناپسند ہے کہ اپنے رفیقوں سے امتیازی شان میں رہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں نماز کے لیے اترے اور مصلے کی طرف بڑھے‘ پھر لوٹے‘ عرض کیا گیا کہ کہاں کا ارادہ فرمالیا ہے؟ ارشاد فرمایا کہ اپنی اونٹنی کو باندھتا ہوں‘ عرض کیا کہ اتنے سے کام کے لیے حضور تکلف فرمانے کی کیا ضرورت ہے‘ ہم خدام ہی اس کو باندھ دیں گے‘ ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص بھی دوسرے لوگوں سے مدد نہ طلب کرے‘ اگرچہ مسواک توڑنے میں ہو۔
ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھے ہوئے کھجوریں نوش فرما رہے تھے کہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ آشوب چشم کی وجہ سے ایک آنکھ کو ڈھانکے ہوئے آگئے‘ سلام کرکے کھجوروں کی طرف جھکے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آنکھ تو دُکھ رہی ہے اور شیرینی کھاتے ہو؟ عرض کیا یا رسول اللہ! اپنی اچھی آنکھ کی طرف سے کھاتا ہوں اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسی آگئی۔
ایک روز رطب نوش فرما رہے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آگئے‘ ان کی آنکھ دُکھ رہی تھی‘ وہ بھی کھانے کے قریب ہوگئے‘ ارشاد فرمایا کہ آشوب چشم کی حالت میں بھی شیرینی کھائو گے؟ وہ پیچھے ہٹ کر ایک طرف جابیٹھے‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا تو وہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہے تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف کھجور پھینک دی۔ پھر ایک اور پھر ایک اور اسی طرح سات کھجوریں پھینکیں‘ فرمایا کہ تم کو کافی ہیں جو کھجور طاق عدد کے موافق کھائی جائے وہ مضر (نقصان دہ) نہیں۔ (ماہنامہ المحمود‘ ۲۰ مئی‘ جون ۲۰۰۱ء)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more