حج میں جانے والوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھنے سے بھی ثواب ملتا ہے
ملفوظاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
رمضان المبارک کے بعد حاجیوں کی روانگی ہوتی ہے تو غیر حاجیوں کے دل پر نشتر سا لگتا ہے اور وہ بھی حسرت کے ساتھ ان جانے والوں کو دیکھتے ہیں ، اور اس وقت ہر مسلمان کے دل میں ایک خاص داعیہ پیدا ہوتا ہے کہ ہائے ہم بھی اس وقت حج کو جاتے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک مؤمن کی نیت ہی بڑی چیز ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ مؤمن کی خالص نیت اس کے عمل سے بہتر ہے۔ اور حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک غزوہ میں صحابہ سے فرمایا کہ بعض لوگ ایسے ہیں جو اس وقت ظاہر میں تمہارے ساتھ نہیں مگر اللہ کے نزدیک وہ ہر منزل اور ہر مقام میں تمہارے ساتھ ہیں اور ثواب میں برابر کے شریک ہیں ، اور یہ وہ معذورین ہیں جو عذر کی وجہ سے تمہارے ساتھ شریک سفر نہ ہو سکے مگر ان کا دل یہ چاہتا تھا کہ وہ بھی تمہاری طرح جہاد کریں۔ اس حدیث پاک میں مشتاقانِ حج (یعنی جو حج کے شوق میں بے چین ہیں اور استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے یا کسی عذر کی وجہ سے نہیں جاسکتے ایسے لوگوں) کا حاجیوں کے ساتھ حج میں شریک ہونا واضح ہوگیا۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

