حج مقبول کا یادگار واقعہ

حج مقبول کا یادگار واقعہ

مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ ایک عجیب واقعہ سناتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ گرمیوں کا موسم تھا چلچلاتی دھوپ تھی دوپہر کا وقت تھا۔ حتیٰ کہ پرندے بھی درختوں کے پتوں کے سائے میں جا کر بیٹھ گئے تھے، انسان اپنے گھروں میں ٹھہر گئے تھے، جانور بھی نظر نہیں آتے تھے، پرندے اڑتے نظر نہیں آتے تھے، اتنی سخت گرمی کا عالم تھا۔ فرماتے ہیں: میں نے ایک نوجوان کو دیکھا، وہ دونوں پائوں سے معذور تھا، وہ دونوں ٹانگوں سے معذور تھا، وہ تپتی دھوپ میں اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے ہوئے آگے آگے کھسک رہا تھا۔ فرماتے ہیں: جب وہ میرے قریب آیا اور میں نے اس نوجوان کو دیکھا، اس کا شگفتہ چہرہ تھا مگر دونوں پائوں سے معذور تھا اورگرم زمین پردونوں ہاتھ رکھے آگے آگے گھسٹ رہا تھا ، پسینے میں شرابورتھا، میں نے اسے سلام کیا اور پوچھا کہ کہاں جا رہے ہو؟ کہنے لگا کہ میں اللہ کے گھر کے دیدار کے لئے جارہا ہوں۔ میں نے پوچھا کہ کہاں سے چلے ؟ کہنے لگا کہ میں فلاں ملک سے چلا ہوں۔ میں نے پوچھا کہ کتنا وقت لگا؟ کہنے لگا کہ مجھے اپنے گھر سے چلے ہوئے دو سال ہوگئے ہیں۔ میںدو سال سے اپنے ہاتھوں سے گھسٹ گھسٹ کر اپنے مالک کے گھر کی طرف جا رہا ہوں۔ میں نے کہا کہ تم تھوڑی دیر آرام کیوں نہیں کر لیتے؟ کہنے لگا مالک بن دینار! میں تمہیں عقلمند سمجھتا تھا مگر تم نے کہا کہ آرام کرلو، ارے! جس کو اپنے محبوب کو راضی کرنے کی فکر لگی ہوئی ہو تو وہ کیسے آرام سے بیٹھ سکتا ہے؟ اورتم تو پائوں سے چل کر جا سکتے ہو اور مجھے تو گھسٹ گھسٹ کر جانا ہے، میرے پاس وقت تھوڑا ہے، اس لئے میں اپنے وقت کو ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے اسے کہا کہ اے نوجوان! اگر تم جانا ہی چاہتے ہو تو کیوں نہیں سواری کا بندوبست کر لیتے آرام کے ساتھ پہنچ جائوگے۔ کہنے لگے: اس نے میرے اوپر ایک عجیب اچٹتی ہوئی نظر ڈالی اور پھرکہا: مالک بن دینار! میں تمہیں عقلمند سمجھتا تھا ، اب پتہ چلا کہ آپ عقل سے بالکل خالی ہیں۔ میں نے پوچھا: نوجوان! وہ کیسے؟ کہنے لگا: جب کوئی غلام اپنے آقا کو ناراض کر بیٹھے اور پھر اس کو منانے کیلئے چلے تو بتائو وہ سواریوں پر سوار ہو کر جایا کرتا ہے یا پیدل چل کر جایا کرتا ہے۔ اس کی بات سن کر میں حیران ہوا، چنانچہ وہ اسی طرح گھسٹتا گھسٹتا میری نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔ فرماتے ہیں میں کافی دیر سوچتا رہا کہ اس بچے کے دل میں اللہ نے کیسی اپنی محبت ڈال دی۔
فرماتے ہیں اللہ کی شان مجھے اسی سال حج پر جانے کا موقع نصیب ہوگیا۔ میں منیٰ کے میدان میں تھا اور میں شیطانوں کو کنکریاں مار کر فارغ ہوا۔ میں نے دیکھا کہ ایک جگہ لوگوں کا بڑا مجمع لگا ہوا ہے۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے، کہنے لگے کہ یہاں پر ایک نوجوان ہے اللہ کی محبت میں عجیب و غریب باتیں کررہا ہے اور ہم سب اس کی باتیں سن رہے ہیں۔ فرماتے ہیں میں مجمع کو چیر کر آگے بڑھا، میں نے دیکھا، وہی نوجوان احرام باندھے ہوئے زمین پر بیٹھا ہوا ہے، آسمان کی طرف دیکھ کر اللہ رب العزت سے محبت کی باتیں کر رہا ہے۔ وہ یہ کہہ رہا تھا میرے مولیٰ! تیری توفیق سے میں ہاتھوں کے بل گھسٹتا گھسٹتا تیرے گھر پہنچا، اللہ! تو نے مجھے طواف کی بھی توفیق دی۔ میرے مولیٰ! تو نے مجھے عرفات کے میدان میں بھی دعائیں مانگنے کی توفیق دی۔ تو نے مجھے مزدلفہ کا وقوف بھی عطا کیا۔ اللہ! میں نے شیطان کو کنکریاں مار کر اپنی بیزاری کا بھی اعلان کردیا اور میرے مولیٰ! اب قربانی کا وقت ہے، یہ سارے غنی لوگ ہیں، یہ اپنے اپنے جانور قربان کر رہے ہیں، مگر اللہ! تو جانتا ہے میں فقیر آدمی ہوں، میرے جسم پر کپڑوں کے سوا کچھ نہیں ، میرے پاس تو میری جان ہے، کتنا اچھا ہو، اس قربانی کے بدلے تو میری جان کو قبول کرلے، فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ اس نے کہے اور کلمہ پڑھا اور اس کی جان جان آفرین کے سپرد ہو گئی۔ یہ ہوتے ہیں اللہ رب العزت سے محبت کرنے والے جو اپنی جان اپنے پروردگار کے نام پر قربان کردیا کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت ہمیں بھی ایسی محبت عطا فرمائے اور ہمیں بھی اپنے پسندیدہ بندوں میں شامل فرمادے۔(ج 27ص214)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more